صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
430. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان -
حدیث نمبر: 6586
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنَ عُتْبَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَجَعَ إِِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جِنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ، وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي، وَأَنَا أَقُولُ: وَا رَأْسَاهْ، قَالَ:" بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ، وَا رَأْسَاهْ"، ثُمَّ قَالَ: " وَمَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي، فَغَسَّلْتُكِ، وَكَفَّنْتُكِ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ، ثُمَّ دَفَنْتُكِ؟"، قُلْتُ: لَكَأَنِّي بِكَ أَنْ لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ قَدْ رَجَعْتَ إِِلَى بَيْتِي، فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بُدِئَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں جنازے میں شریک ہونے کے بعد میرے ہاں واپس تشریف لائے۔ مجھے سر میں درد محسوس ہو رہا تھا۔ میں نے کہا: ہائے میرا سر! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بلکہ اے عائشہ! مجھے یہ کہنا چاہیے: ہائے میرا سر۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں تو کوئی نقصان نہیں ہے، اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہو جاتی ہو تو میں تمہیں غسل دوں گا، میں تمہیں کفن دوں گا، میں تمہاری نمازِ جنازہ ادا کروں گا، پھر میں تمہیں دفن کروں گا۔“ میں نے عرض کی: جی ہاں، جب آپ ایسا کر لیں گے تو اس کے بعد آپ واپس میرے گھر تشریف لے جائیں گے اور وہاں اپنی نئی زوجہ محترمہ کے ساتھ رات گزاریں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کا آغاز ہوا جس میں آپ کا وصال ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6586]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6586، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7042، 7043، والدارمي فى (مسنده) برقم: 81، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1465، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6758، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1827، 1828، 1829، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26548» «رقم طبعة با وزير 6552»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «أحكام الجنائز» (50)، «الإرواء» (700)، «دفاع عن الحديث» (53 - 54). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null