صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
431. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن العلة قد بدت برسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في بيت ميمونة-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میمونہ کے گھر میں شروع ہوئی
حدیث نمبر: 6587
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ: أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ حَتَّى أُغْمِيَ عَلَيْهِ، قَالَ: وَتَشَاوَرُوا فِي لَدِّهِ، فَلَدُّوهُ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ:" مَا هَذَا؟ أَفِعْلُ نِسَاءٍ جِئْنَا مِنْ هَا هُنَا؟"، وَأَشَارَ إِِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَكَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ فِيهِنَّ، فَقَالُوا: كُنَّا نَتَّهِمُ بِكَ ذَاتَ الْجَنْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِِنْ كَانَ ذَلِكَ لَدَاءٌ مَا كَانَ اللَّهُ لِيَقْذِفَنِي بِهِ، لا يَبْقِيَنَّ أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِِلا لُدَّ إِِلا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، يَعْنِي عَبَّاسًا ، قَالَ: فَلَقَدِ الْتَدَّتْ مَيْمُونَةُ يَوْمَئِذٍ، وَإِِنَّهَا لَصَائِمَةٌ لِعَزِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہوگئی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ گھر والوں نے اس بارے میں مشورہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں دوا ٹپکائی جائے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں دوا ٹپکا دی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ محسوس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا چیز ہے؟ کیا یہ ان خواتین کا فعل ہے جو اس طرف سے آئی ہیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کی سرزمین کی طرف اشارہ کیا، سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی ان خواتین میں شامل تھیں۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں یہ گمان ہوا کہ شاید آپ کو ذات الجنب کی بیماری لاحق ہوئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ بیماری ہے جس میں اللہ تعالیٰ مجھے مبتلا نہیں کرے گا۔ اب گھر میں موجود ہر شخص کے منہ میں دوا ٹپکائی جائے گی۔ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے ساتھ ایسا نہیں کیا جائے گا یعنی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس دن سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بھی دوا پی حالانکہ انہوں نے اس دن روزہ رکھا ہوا تھا لیکن انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید اصرار پر ایسا کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6587]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6587، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7539، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28114، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 9754، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1935، والطبراني فى(الكبير) برقم: 372» «رقم طبعة با وزير 6553»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح الإسناد - وصحَّحه الحافظ في «الفتح» (8/ 148).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null