صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
482. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن قدر ما بقي من هذه الدنيا في جنب ما خلا منها-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس دنیا کا جو حصہ باقی ہے اس کے مقابلے میں جو گزر چکا اس کی مقدار
حدیث نمبر: 6639
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلا مِنَ الأُمَمِ، كَمَا بَيْنَ صَلاةِ الْعَصْرِ إِِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ، وَإِِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالا، فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي إِِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ؟ قَالَ: فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ إِِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِِلَى صَلاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ؟ قَالَ: فَعَمِلَتِ النَّصَارَى مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِِلَى صَلاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، قَالَ: ثُمَّ أَنْتُمُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ مِنْ صَلاةِ الْعَصْرِ إِِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، قَالَ: فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، وَقَالُوا: نَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلا وَأَقَلَّ عَطَاءً، قَالَ: هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا؟ قَالُوا: لا، قَالَ: فَإِِنَّهُ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ”مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: قتادہ نے یہ بات کہی ہے۔ یہ اس طرح ہے جیسے ایک کو دوسری پر فضیلت حاصل ہو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہو کہ مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے جیسے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی ہوتی ہے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی نہیں آئے گا کیونکہ میں آخری نبی ہوں اور میری امت پر ہی قیامت قائم ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6639]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہو کہ مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے جیسے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی ہوتی ہے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی نہیں آئے گا کیونکہ میں آخری نبی ہوں اور میری امت پر ہی قیامت قائم ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6639]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 557، 2268، 2269، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6639، 7217، 7221، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2871، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11758، 11759، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4596» «رقم طبعة با وزير 6605»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض النضير» (504): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم