صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
492. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 6649
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِِلَى الْمَشْرِقِ، وَيَقُولُ:" إِِنَّ الْفِتْنَةَ هُنَا، إِِنَّ الْفِتْنَةَ هُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک قیامت سے پہلے کچھ کذاب ہوں گے، جن میں ایک یمامہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہے اور ایک صنعاء سے تعلق رکھنے والا شخص عنسی ہے۔ ان میں سے ایک حمیر سے تعلق رکھتا ہو گا اور ان میں سے ایک دجال ہو گا جو فتنے کے اعتبار سے ان سب سے بڑا ہو گا۔“
راوی بیان کرتے ہیں: میرے ساتھیوں نے یہ بات بیان کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ ان کذابوں کی تعداد 30 کے قریب ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6649]
راوی بیان کرتے ہیں: میرے ساتھیوں نے یہ بات بیان کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ ان کذابوں کی تعداد 30 کے قریب ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6649]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1037، 3104، 3279، 3511، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2905، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3576، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6648، 6649، 7301، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2268، 3953، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4770» «رقم طبعة با وزير 6615»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم