🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

500. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار بأن أبا بكر الصديق ثم عمر ثم عثمان ثم عليا الخلفاء بعد المصطفى صلى الله عليه وسلم ورضي الله عنهم وقد فعل-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ابو بکر صدیق، پھر عمر، پھر عثمان، پھر علی مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء ہوں گے رضی اللہ عنہم اور یہ ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6657
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ سَفِينَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْخِلافَةُ ثَلاثُونَ سَنَةً، وَسَائِرُهُمْ مُلُوكٌ، وَالْخُلَفَاءُ وَالْمُلُوكُ اثْنَا عَشَرَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ أَوْهَمَ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ أَنَّ آخِرَهُ يَنْقُضُ أَوَّلَهُ، إِِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ أَنَّ الْخِلافَةَ ثَلاثُونَ سَنَةً ثُمَّ، قَالَ: وَسَائِرُهُمْ مُلُوكٌ، فَجَعَلَ مَنْ تَقَلَّدَ أُمُورَ الْمُسْلِمِينَ بَعْدَ ثَلاثِينَ سَنَةٍ مُلُوكًا كُلَّهُمْ، ثُمَّ قَالَ: وَالْخُلَفَاءُ وَالْمُلُوكُ اثْنَا عَشَرَ، فَجَعَلَ الْخُلَفَاءَ وَالْمُلُوكَ اثْنَيْ عَشَرَ فَقَطْ، فَظَاهِرُ هَذِهِ اللَّفْظَةِ يَنْقُضُ أَوَّلَ الْخَبَرِ، وَلَيْسَ بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَنِّهِ كَذَلِكَ، وَلا يَجِبُ أَنْ يُجْعَلَ حِرْمَانُ تَوْفِيقِ الإِِصَابَةِ دَلِيلا عَلَى بُطْلانِ الْوَارِدِ مِنَ الأَخْبَارِ، بَلْ يَجِبُ أَنْ يُطْلَبَ الْعِلْمُ مِنْ مَظَانِّهِ، فَيُتَفَقَّهُ فِي السُّنَنِ حَتَّى يُعْلَمَ أَنَّ أَخْبَارَ مَنْ عُصِمَ، وَلَمْ يَكُنْ يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى، إِِنْ هُوَ إِِلا وَحْيٌ يُوحَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لا تَتَضَادُّ وَلا تَتَهَاتَرُ، وَلَكِنْ مَعْنَى الْخَبَرِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ بَعْدَ الثَّلاثِينَ سَنَةً يَجُوزُ أَنْ يُقَالَ لَهُمْ: خُلَفَاءُ أَيْضًا عَلَى سَبِيلِ الاضْطِرَارِ، وَإِِنْ كَانُوا مُلُوكًا عَلَى الْحَقِيقَةِ، وَآخِرُ الاثْنَيْ عَشَرَ مِنَ الْخُلَفَاءِ كَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَلَمَّا ذَكَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخِلافَةَ ثَلاثِينَ سَنَةً، وَكَانَ آخِرُ الاثْنَيْ عَشَرَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَكَانَ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، أُطْلِقَ عَلَى مَنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الأَرْبَعِ الأُوَلِ اسْمُ الْخُلَفَاءِ، وَذَاكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَضَهُ اللَّهُ إِِلَى جَنَّتِهِ يَوْمَ الاثْنَيْنِ لِثِنْتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الأَوَّلِ سَنَةَ عَشَرَةٍ مِنَ الْهِجْرَةِ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ يَوْمَ الثُّلاثَاءِ ثَانِيَ وَفَاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لَيْلَةَ الاثْنَيْنِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً مَضَيْنَ مِنْ جُمَادَى الآخِرَةِ، وَكَانَتْ خِلافَتُهُ سَنَتَيْنِ وَثَلاثَةَ أَشْهُرٍ وَاثْنَيْنِ وَعِشْرِينَ يَوْمًَا، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمَ الثَّانِي مِنْ مَوْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ثُمَّ قُتِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَتْ خِلافَتُهُ عَشْرَ سِنِينَ وَسِتَّةَ أَشْهُرٍ وَأَرْبَعَ لَيَالٍ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ثُمَّ قُتِلَ عُثْمَانُ، وَكَانَتْ خِلافَتُهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً إِِلا اثْنَيْ عَشَرَ يَوْمًا، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَقُتِلَ، وَكَانَتْ خِلافَتُهُ خَمْسَ سِنِينَ وَثَلاثَةَ أَشْهُرٍ إِِلا أَرْبَعَةَ عَشَرَ يَوْمًا، فَلَمَّا قُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ يَوْمُ السَّابِعَ عَشَرَ مِنْ رَمَضَانَ سَنَةَ أَرْبَعِينَ، بَايَعَ أَهْلُ الْكُوفَةِ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ بِالْكُوفَةِ، وَبَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بِإِِيلِيَاءَ، ثُمَّ سَارَ مُعَاوِيَةُ يُرِيدُ الْكُوفَةَ، وَسَارَ إِِلَيْهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَالْتَقَوْا بِنَاحِيَةِ الأَنْبَارِ، فَاصْطَلَحُوا عَلَى كِتَابٍ بَيْنَهُمْ بِشُرُوطٍ فِيهِ، وَسَلَّمَ الْحَسَنُ الأَمْرَ إِِلَى مُعَاوِيَةَ، وَذَلِكَ يَوْمُ الاثْنَيْنِ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الأَوَّلِ سَنَةَ إِِحْدَى وَأَرْبَعِينَ، وَتُسَمَّى هَذِهِ السَّنَةُ سَنَةُ الْجَمَاعَةِ، ثُمَّ تُوُفِّيَ مُعَاوِيَةُ بِدِمَشْقَ يَوْمَ الْخَمِيسِ لِثَمَانٍ بَقِينَ مِنْ رَجَبٍ سَنَةَ سِتِّينَ، وَكَانَتْ وِلايَتُهُ تِسْعَ عَشْرَةَ سَنَةً وَأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ إِِلا لَيَالٍ، وَكَانَتْ لَهُ يَوْمَ مَاتَ ثَمَانٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً، ثُمَّ وَلِيَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ابْنُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَبُوهُ، وَتُوُفِّيَ بِحُوَارَيْنَ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى دِمَشْقَ لأَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَبِيعٍ الأَوَّلِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَثَلاثِينَ سَنَةً، وَكَانَتْ وِلايَتُهُ ثَلاثَ سِنِينَ وَثَمَانِيَةَ أَشْهُرٍ إِِلا أَيَّامًا، ثُمَّ بُويِعَ ابْنُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَزِيدَ يَوْمَ النِّصْفِ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الأَوَّلِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَمَاتَ يَوْمَ الْخَامِسِ وَالْعِشْرِينَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الآخِرِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَكَانَتْ إِِمَارَتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ إِِحْدَى وَعِشْرِينَ سَنَةً، ثُمَّ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَبَايَعَ أَهْلُ الْحِجَازِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَاسْتَوَى الأَمْرُ لِمَرْوَانَ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ لِثَلاثِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَمَاتَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِدِمَشْقَ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ، وَلَهُ ثَلاثٌ وَسِتُّونَ سَنَةً، وَكَانَتْ إِِمَارَتُهُ عَشَرَةَ أَشْهُرٍ إِِلا لَيَالٍ، ثُمَّ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَبُوهُ، وَمَاتَ عَبْدُ الْمَلِكِ بِدِمَشْقَ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ سِتٍّ وَثَمَانِينَ وَلَهُ اثْنَانِ وَسِتُّونَ سَنَةً، ثُمَّ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ الْوَلِيدَ ابْنَهُ يَوْمَ تُوُفِّيَ عَبْدُ الْمَلِكِ، ثُمَّ تُوُفِّيَ الْوَلِيدُ بِدِمَشْقَ فِي النِّصْفِ مِنْ جُمَادَى الآخِرَةِ سَنَةَ سِتٍّ وَتِسْعِينَ، وَكَانَ لَهُ يَوْمَ مَاتَ ثَمَانٌ وَأَرْبَعُونَ سَنَةً، وَكَانَتْ إِِمَارَتُهُ تِسْعَ سِنِينَ وَثَمَانِيَةَ أَشْهُرٍ، ثُمَّ بُويِعَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخُوهُ لأُمِّهِ وَأَبِيهِ، وَتُوُفِّيَ سُلَيْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِعَشْرِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ صَفَرٍ بِدَابِقَ سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَلَهُ خَمْسٌ وَأَرْبَعُونَ سَنَةً، وَكَانَتْ إِِمَارَتُهُ سَنَتَيْنِ وَثَمَانِيَةَ أَشْهُرٍ وَخَمْسَ لَيَالٍ، ثُمَّ بَايَعَ النَّاسُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ سُلَيْمَانُ، وَتُوُفِّيَ رَحِمَهُ اللَّهُ بِدَيْرِ سَمْعَانَ مِنْ أَرْضِ حِمْصَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ رَجَبٍ سَنَةَ إِِحْدَى وَمِائَةٍ، وَلَهُ يَوْمَ مَاتَ إِِحْدَى وَأَرْبَعُونَ سَنَةً، وَكَانَتْ خِلافَتُهُ سَنَتَيْنِ وَخَمْسَةَ أَشْهُرٍ وَخَمْسَ لَيَالٍ، وَهُوَ آخِرُ الْخُلَفَاءِ الاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ خَاطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ بِهِمْ.
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: خلافت تیس سال تک ہو گی، اس کے بعد بادشاہ ہوں گے، خلفاء اور بادشاہ بارہ ہوں گے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ روایت ہے جس نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کیا جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ یہ کہتا ہے کہ اس کا آخری حصہ اس کے پہلے حصے کا الٹ ہے؛ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ خلافت تیس سال تک ہو گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اس کے بعد سارے بادشاہ ہوں گے، تو تیس سال گزرنے کے بعد جو بھی شخص مسلمانوں کے امور کا نگران بنے گا وہ سب لوگ بادشاہ شمار ہوں گے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خلفاء اور بادشاہوں کی تعداد بارہ ہو گی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء اور بادشاہوں کی تعداد تو صرف بارہ تک محدود کی ہے، اس لیے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ الفاظ ابتدائی حصے کے برعکس ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے تحت ایسا نہیں ہے اور یہ بات لازم نہیں ہے کہ اگر آدمی کسی صحیح دلیل تک پہنچنے کی توفیق سے محروم رہا ہو تو وہ منقول روایات کو غلط قرار دینا شروع کر دے، بلکہ یہ بات لازم ہے کہ وہ علم کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل کرے اور سنن کے بارے میں سمجھ بوجھ حاصل کرے تاکہ اسے یہ بات پتہ چل جائے کہ وہ ذات جو معصوم ہے اور جو خواہشِ نفس سے کلام نہیں کرتی بلکہ وہی کلام کرتی ہے جو ان کی طرف وحی کیا جاتا ہے، ان کے بیان کردہ فرامین میں کوئی تضاد اور کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ ہمارے نزدیک اس روایت کا مفہوم یہ ہے کہ تیس سال گزرنے کے بعد جو حکمران آئیں گے انہیں اضطراری طور پر (یعنی مجبوری کے عالم میں) خلفاء کہا جا سکتا ہے، اگرچہ وہ درحقیقت بادشاہ ہوں گے، اور ان بارہ خلفاء میں سے آخری عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ہیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ذکر کر دی کہ حقیقی خلافت تیس سال تک ہو گی اور پھر اس کے بعد بارہ خلفاء میں سے آخری عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ہیں تو ان کا شمار خلفاء راشدین مہدیین میں ہو گا، تو ان کے درمیان اور پہلے چار خلفاء کے درمیان جو لوگ آئے ہیں ان کے لیے لفظ خلفاء استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی صورت یوں ہے: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارکہ کو اللہ تعالیٰ نے قبض کیا اور جنت کی طرف منتقل کیا تو یہ پیر کے دن بارہ ربیع الاول کی رات 11 ہجری کی بات ہے، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے دوسرے دن یعنی منگل کے دن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وصال 17 جمادی الثانی کی رات کو ہوا، ان کی خلافت دو سال تین ماہ اور بائیس دن بنتی ہے۔ اس کے بعد اگلے دن یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے انتقال کے اگلے دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا، ان کی مدت خلافت دس سال چھ ماہ چار دن بنتی ہے، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ان کی مدت خلافت بارہ سال سے بارہ دن کم بنتی ہے، پھر سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا، وہ شہید ہوئے، ان کی خلافت پانچ سال تین ماہ بنتی ہے جس میں سے چودہ دن کم ہوں گے، جب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو یہ رمضان کی سترہ تاریخ تھی اور سنہ چالیس ہجری تھا۔ اس کے بعد اہل کوفہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اہل شام نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر عالیہ میں بیعت کر لی، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف (جنگ کرنے کے لیے) روانہ ہوئے اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما ان کی طرف روانہ ہوئے، انبار کے قریب دونوں کا سامنا ہوا تو انہوں نے ایک معاہدے کے تحت صلح کر لی جس میں کچھ شرائط پائی جاتی تھیں، تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے حکومت کا معاملہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا، یہ 25 ربیع الاول پیر کے دن کی بات ہے اور اکتالیس ہجری کا سال ہے، اس سال کو اجتماعیت کا سال قرار دیا گیا۔ پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دمشق میں انتقال ہوا، یہ پیر کے دن بائیس رجب المرجب ساٹھ ہجری کی بات ہے، ان کی حکومت 19 سال اور چار ماہ سے کچھ دن کم تھی، جس وقت ان کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر 78 برس تھی، اس کے بعد ان کا بیٹا یزید بن معاویہ پیر کے دن ان کا جانشین بنا، یہ اسی دن کی بات ہے جس دن اس کے والد کا انتقال ہوا تھا، اس کا انتقال حوارین میں ہوا جو دمشق کی ایک بستی ہے، یہ چودہ ربیع الاول سن 64 ہجری کی بات ہے، اس وقت اس کی عمر 38 سال تھی اور اس کی حکومت تین سال آٹھ ماہ سے کچھ دن کم تھی۔ پھر اس کے بیٹے معاویہ بن یزید کے ہاتھ پر بیعت کی گئی، یہ پندرہ ربیع الاول سن 64 ہجری کی بات ہے، اس کا انتقال 25 ربیع الثانی 64 ہجری میں ہوا، اس کی حکومت چالیس دن تھی، جب اس کا انتقال ہوا تو اس کی عمر اکیس برس تھی، پھر اہل شام نے مروان بن حکم کی بیعت کر لی اور اہل حجاز نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت کر لی، پھر بدھ کے دن تین ذی قعدہ سن 64 ہجری میں مروان مکمل طور پر حکمران بن گیا، مروان بن حکم کا انتقال رمضان کے مہینے میں دمشق میں 65 ہجری میں ہوا، اس وقت اس کی عمر 63 برس تھی اور اس کی حکومت دس ماہ سے کچھ دن کم رہی۔ پھر اہل شام نے عبدالملک بن مروان کے ہاتھ پر بیعت کر لی، یہ اسی دن کی بات ہے جس دن اس کے باپ کا انتقال ہوا تھا، عبدالملک کا انتقال دمشق میں شوال میں ہوا، یہ سن 86 ہجری کی بات ہے، اس وقت اس کی عمر 62 سال تھی، پھر اہل شام نے اس کے بیٹے ولید کے ہاتھ پر بیعت کر لی، یہ اسی دن کی بات ہے جس دن عبدالملک کا انتقال ہوا تھا، پھر ولید کا انتقال دمشق میں پندرہ جمادی الثانی 96 ہجری میں ہوا، جس دن اس کا انتقال ہوا اس کی عمر 48 برس تھی اور اس کی حکومت نو سال آٹھ ماہ تک رہی، پھر سلیمان بن عبدالملک کے ہاتھ پر بیعت کی گئی جو اس کا سگا بھائی تھا۔ سلیمان کا انتقال دابق کے مقام پر جمعہ کے دن دس صفر 99 ہجری میں ہوا، اس وقت اس کی عمر 45 سال تھی اور اس کی حکومت دو سال آٹھ ماہ پانچ دن تک رہی تھی، پھر لوگوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ہاتھ پر اسی دن بیعت کی جس دن سلیمان کا انتقال ہوا تھا، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا انتقال حمص کی سرزمین پر دیر سمعان کے مقام پر ہوا، یہ جمعہ کے دن کی بات ہے، یہ پانچ رجب المرجب 101 ہجری کی بات ہے، جس دن ان کا انتقال ہوا اس دن ان کی عمر اکتالیس برس تھی اور ان کی خلافت دو سال پانچ ماہ اور پانچ دن تک رہی، یہ ان بارہ خلفاء میں سے آخری خلیفہ تھے جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو آگاہ کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6657]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6657، 6943، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4464، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8099، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4646، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2226، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22337» «رقم طبعة با وزير 6623»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (459).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں