صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
522. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن عرض الناس صدقة الأموال على الناس في آخر الزمان وعدم من يقبلها منهم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں لوگ اموال کی صدقہ پیش کریں گے اور کوئی اسے قبول نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 6680
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكْثُرَ فِيكُمُ الأَمْوَالُ وَتَفِيضَ، حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ صَدَقَتَهُ، وَحَتَّى يَعْرِضَهُ، وَيَقُولُ الَّذِي يُعْرَضُ عَلَيْهِ: لا أَرَبَ لِي فِيهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تمہارے درمیان مال کی کثرت نہیں ہو جائے گی۔ وہ مال عام ہو جائے گا یہاں تک کہ مال کا مالک اس بات کا خواہش مند ہو گا کہ کوئی شخص اس سے اس کا صدقہ قبول کر لے، یہاں تک کہ وہ کسی کے سامنے اسے پیش کرے گا تو جس کے سامنے پیش کیا گیا ہو گا وہ یہ کہے گا: اب مجھے اس میں دلچسپی نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6680]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 85، 1036، 1412، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 157، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6651، 6680، 6681، 6700، 6711، 6717، 6718، 6734، 6838، 6845، 6846، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8506، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4255، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2218، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4047، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16806، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7282» «رقم طبعة با وزير 6645»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مشكلة الفقر» (129). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح