صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
523. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم صدقته أراد به الصدقة الفريضة دون التطوع-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "صدقہ" سے مراد فرض صدقہ ہے نہ کہ نفلی
حدیث نمبر: 6681
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ، حَتَّى يُخْرِجَ الرَّجُلُ زَكَاةَ مَالِهِ، فَلا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ" .
ابونضرہ بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے۔ انہوں نے فرمایا: عنقریب عراق کی یہ صورت حال ہو گی کہ ان کی طرف (اناج کا) ایک قفیز یا ایک درہم بھی نہیں آئے گا۔ ہم نے دریافت کیا: ایسا کس وجہ سے ہو گا۔ انہوں نے فرمایا: یہ عجمیوں کی طرف سے ہو گا۔ وہ اسے نہیں آنے دیں گے پھر انہوں نے فرمایا: عنقریب اہل شام کی یہ صورت حال ہو گی کہ ان کی طرف ایک دینار اور ایک مد بھی نہیں آئے گا۔ ہم نے دریافت کیا: یہ کس کی طرف سے ہو گا۔ انہوں نے جواب دیا: یہ اہل روم کی طرف سے ہو گا۔ پھر وہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”میری امت کے آخر میں ایسا خلیفہ ہو گا، گنتی کے بغیر مٹھیاں بھر بھر کے مال دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6681]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6646»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (5440).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم