صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
549. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف مصالحة المسلمين الروم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ مسلمانوں اور روم کی مصالحت کی وصف
حدیث نمبر: 6708
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ ذِي مِخْبَرِ ابْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًَا حَتَّى تَغْزُوا أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِهِمْ، فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ، فَيَقُولُ قَائِلٌ مِنَ الرُّومِ: غَلَبَ الصَّلِيبُ، وَيَقُولُ قَائِلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: بَلِ اللَّهُ غَلَبَ، فَيَثُورُ الْمُسْلِمُ إِِلَى صَلِيبِهِمْ وَهُوَ مِنْهُ غَيْرُ بَعِيدٍ فَيَدُقُّهُ، وَتَثُورُ الرُّومُ إِِلَى كَاسِرِ صَلِيبِهِمْ، فَيَضْرِبُونَ عُنُقَهُ، وَيَثُورُ الْمُسْلِمُونَ إِِلَى أَسْلِحَتِهِمْ فَيَقْتَتِلُونَ، فَيُكْرِمُ اللَّهُ تِلْكَ الْعِصَابَةَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِالشَّهَادَةِ، فَتَقُولُ الرُّومُ لِصَاحِبِ الرُّومِ: كَفَيْنَاكَ الْعَرَبَ، فَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ، فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا" .
سیدنا ذی مخبر رضی اللہ عنہ، جو نجاشی کے بھتیجے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ اہل روم کے ساتھ صلح کرو گے جو امن والی ہو گی، یہاں تک کہ تم اور وہ لوگ مل کر ایک ایسے دشمن کے ساتھ جنگ کرو گے جو ان کے علاوہ ہو گا، تو تم لوگوں کی مدد کی جائے گی، تم لوگ مال غنیمت حاصل کرو گے، پھر تم لوگ واپس آؤ گے یہاں تک کہ تم ٹیلوں والی چراگاہ میں پڑاؤ کرو گے، تو اہل روم میں سے ایک شخص کہے گا: صلیب غالب آئی ہے، اور مسلمانوں میں سے ایک شخص کہے گا: بلکہ اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا کیا ہے، تو وہ مسلمان ان کی صلیب کی طرف بڑھے گا جو اس سے زیادہ دور نہیں ہو گی اور وہ اسے توڑ دے گا، تو رومی اپنے صلیب کو توڑنے والے شخص کی طرف بڑھیں گے اور اس کی گردن اڑا دیں گے، مسلمان اپنے اسلحے کی طرف جائیں گے اور لڑائی شروع کر دیں گے، تو مسلمانوں کے گروہ کو اللہ تعالیٰ شہادت کے ذریعے عزت عطا کرے گا۔ اہل روم رومیوں کے بادشاہ سے کہیں گے ہم عربوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں، پھر وہ زبردست جنگ کے لیے اکٹھے ہوں گے اور 80 جھنڈوں کے نیچے اکٹھے ہو کر تمہاری طرف آئیں گے، جن میں سے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6708]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6708، 6709، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8392، 8393، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2767، 4292، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4089، 4089 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18885، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17100» «رقم طبعة با وزير 6673»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2472).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح