صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
550. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر خبر قد يوهم بعض المستمعين أن حسان بن عطية سمع هذا الخبر من مكحول-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو بعض سننے والوں کو یہ وہم دلاتی ہے کہ حسان بن عطیہ نے یہ خبر مکحول سے سنی
حدیث نمبر: 6709
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، قَالَ: مَالَ مَكْحُولٌ إِِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، وَمِلْنَا مَعَهُ، فَحَدَّثَنَا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَنَّ ذَا مِخْبَرِ ابْنَ أَخِي النَّجَاشِيِّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًَا، حَتَّى تَغْزُوا أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِهِمْ، فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ، فَيَقُولُ قَائِلٌ مِنَ الرُّومِ: غَلَبَ الصَّلِيبُ، وَيَقُولُ قَائِلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: بَلِ اللَّهُ غَلَبَ، وَيَتَدَاوَلُونَهَا وَصَلِيبُهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ غَيْرُ بَعِيدٍ، فَيَثُورُ إِِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَدُقُّهُ، وَيَثُورُونَ إِِلَى كَاسِرِ صَلِيبِهِمْ فَيَضْرِبُونَ عُنُقَهُ، وَيَثُورُ الْمُسْلِمُونَ إِِلَى أَسْلِحَتِهِمْ فَيَقْتَتِلُونَ، فَيُكْرِمُ اللَّهُ تِلْكَ الْعِصَابَةَ بِالشَّهَادَةِ، فَيَأْتُونَ مَلِكَهُمْ، فَيَقُولُونَ: كَفَيْنَاكَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ، فَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ، فَيَأْتُونَ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا" .
سیدنا ذی مخبر رضی اللہ عنہ جو نجاشی کے بھتیجے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ عنقریب اہل روم کے ساتھ امن والی صلح کرو گے، یہاں تک کہ تم اور وہ مل کر ایسے دشمن کے ساتھ جنگ کریں گے جو ان سے پرے ہوگا، تو تم لوگوں کی مدد کی جائے گی، تم لوگ سلامت رہو گے اور مالِ غنیمت حاصل کرو گے، یہاں تک کہ تم لوگ ایک چراگاہ میں پڑاؤ کرو گے، تو اہل روم میں سے ایک شخص یہ کہے گا: صلیب غالب آئی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص کہے گا: بلکہ اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا کیا ہے، تو وہ لوگ آپس میں لڑ پڑیں گے۔ ان لوگوں کی صلیب مسلمانوں سے زیادہ دور نہیں ہوگی۔ مسلمانوں کا ایک شخص اس کی طرف بڑھے گا اور اسے توڑ دے گا، تو وہ لوگ صلیب کو توڑنے والے شخص کی طرف بڑھیں گے اور اس کی گردن اڑا دیں گے، تو مسلمان اپنے اسلحے کی طرف آئیں گے اور پھر لڑائی شروع کردیں گے، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو شہادت سے سرفراز کرے گا، وہ رومی اپنے بادشاہ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: جزیرۂ عرب پر (حملہ کرنے کے لیے) ہم آپ کا ساتھ دینے کے لیے کافی ہیں۔ پھر وہ جنگ کے لیے اکٹھے ہوں گے اور جھنڈوں تلے (اکٹھے ہو کر) آئیں گے، جن میں سے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6709]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6708، 6709، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8392، 8393، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2767، 4292، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4089، 4089 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18885، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17100» «رقم طبعة با وزير 6674»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح