سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب الْفَرِيضَةِ عَلَى الرَّاحِلَةِ مِنْ عُذْرٍ
باب: عذر کی وجہ سے فرض نماز سواری پر پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1228
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:هَلْ رُخِّصَ لِلنِّسَاءِ أَنْ يُصَلِّينَ عَلَى الدَّوَابِّ؟ قَالَتْ: لَمْ يُرَخَّصْ لَهُنَّ فِي ذَلِكَ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ. قَالَ مُحَمَّدٌ: هَذَا فِي الْمَكْتُوبَةِ.
عطا بن ابی رباح کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا عورتوں کو چوپایوں پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے؟ آپ نے کہا: مشکل میں ہوں یا سہولت میں، انہیں کسی حالت میں اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں: یہ بات فرض نماز کے سلسلے میں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1228]
جناب عطاء بن ابی رباح نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا عورتوں کو اجازت ہے کہ اپنی سواری کے جانوروں پر نماز پڑھ لیا کریں؟ انہوں نے جواب دیا: ”کسی حال میں انہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے، پریشانی کی کیفیت ہو یا اطمینان کی۔“ محمد بن شعیب نے کہا: ”یہ فرائض کی بات ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17394) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه البيھقي (2/7) النعمان بن المنذر سمعه من سليمان بن موسيٰ انظر تحفة الأشراف (2/241) وسليمان بن موسيٰ سمعه من عطاء بن أبي رباح، فالسند حسن
أخرجه البيھقي (2/7) النعمان بن المنذر سمعه من سليمان بن موسيٰ انظر تحفة الأشراف (2/241) وسليمان بن موسيٰ سمعه من عطاء بن أبي رباح، فالسند حسن