صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
75. ذكر البيان بأن علي بن أبي طالب رضي الله عنه ناصر لمن انتصر به من المسلمين بعد المصطفى صلى الله عليه وسلم-
- ذکر بیان کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان مسلمانوں کے ناصر تھے جنہوں نے ان کی نصرت کی
حدیث نمبر: 6929
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَلِيًّا، قَالَ: فَمَضَى عَلِيٌّ فِي السَّرِيَّةِ، فَأَصَابَ جَارِيَةً، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِِذَا لَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبَرْنَاهُ بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ، قَالَ عِمْرَانُ: وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ بَدَءُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَنَظَرُوا إِِلَيْهِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ إِِلَى رِحَالِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ سَلَّمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أَحَدُ الأَرْبَعَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا، فَأَقْبَلَ إِِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْغَضَبُ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ، فقَالَ: مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ ثَلاثًا" إِِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی اور ان کا امیر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس مہم میں تشریف لے گئے اور انہوں نے ایک کنیز کے ساتھ صحبت کر لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ان کی اس حرکت کو غلط قرار دیا اور انہوں نے یہ کہا: ”جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتائیں گے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا ہے۔“ سیدنا عمران رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مسلمان جب کسی سفر سے واپس آتے تھے، تو وہ سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرتے تھے، پھر اپنی رہائش گاہوں کی طرف واپس جاتے تھے۔ جب وہ مہم واپس آئی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، ان چار افراد میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ نہیں فرمائی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ایسا کیا ہے؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ پھر دوسرے صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ نہیں فرمائی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ایسا کیا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی منہ پھیر لیا۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ایسا کیا ہے؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار نمایاں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ علی کے بارے میں کیا چاہتے ہو؟“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی، ”بے شک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مومن کا محبوب ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 6929]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6929، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4606، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8090، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3712، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20247» «رقم طبعة با وزير 6890»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2223).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي