🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

140. ذكر إثبات الجنة لعبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه-
- ذکر عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے لیے جنت کی تصدیق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6996
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصِينًا ، يَذْكُرُ عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ: قَامَ خُطَبَاءُ يَتَنَاوَلُونَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَفِي الدَّارِ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فَأَخَذَ بِيَدِي، وَقَالَ: أَلا تَرَى هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي أَرَى، يَلْعَنُ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ آثَمُ، فَقُلْتُ: مَنِ التِّسْعَةُ؟ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِرَاءٍ، فَقَالَ: " اثْبُتْ حِرَاءُ، فَإِِنَّ عَلَيْكَ نَبِيًّا، وَصَدِّيقًا، وَشَهِيدًا"، قُلْتُ: مَنْ هُمْ؟ قالَ:" رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، قُلْتُ: مَنِ الْعَاشِرُ؟ فَتَفَكَّرَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: أَنَا" .
عبداللہ بن ظالم مازنی بیان کرتے ہیں: خطیب لوگ کھڑے ہوئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرنے لگے۔ گھر میں سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور بولے: کیا تم اس شخص کو دیکھ رہے ہو جسے میں دیکھ رہا ہوں یہ ایک جنتی شخص کو برا کہہ رہا ہے میں نو لوگوں کے بارے میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے بارے میں گواہی دینا چاہوں، تو میں گناہ گار نہیں ہوں گا۔ میں نے دریافت کیا: وہ نو لوگ کون ہیں، تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرا پہاڑ پر موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے خرا ٹھہرے رہو، کیونکہ تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید ہے۔ میں نے دریافت کیا: وہ کون لوگ ہیں۔ انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ، سیدنا سعد (بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ (یہ نو لوگ ہیں جو جنتی ہیں) میں نے دریافت کیا: دسواں شخص کون ہے؟ وہ تھوڑی دیر تک سوچتے رہے پھر بولے: میں ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 6996]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6957»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (875).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں