صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
162. ذكر الإخبار بما كفن فيه حمزة بن عبد المطلب يومئذ-
- ذکر خبر کہ حمزہ بن عبد المطلب کو اس دن کس چیز میں کفن دیا گیا
حدیث نمبر: 7018
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ:" أُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ صَائِمًا بِطَعَامٍ فَجَعَلَ يَبْكِي، فَقَالَ: قُتِلَ حَمْزَةُ فَلَمْ يُوجَدْ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِِلا ثَوْبٌ وَاحِدٌ، وَقُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ فَلَمْ يُوجَدْ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِِلا ثَوْبٌ وَاحِدٌ، وَلَقَدْ خَشِيتُ أَنْ تَكُونَ قَدْ عُجِّلَتْ طَيِّبَاتُنَا فِي حَيَاتِنَا الدُّنْيَا" ، قَالَ: وَجَعَلَ يَبْكِي.
سعد بن ابراہیم بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا لایا گیا، انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، انہوں نے رونا شروع کر دیا اور بولے: سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو جب شہید کیا تو انہیں کفن دینے کے لیے صرف ایک کپڑا ملا تھا۔ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو انہیں کفن دینے کے لیے صرف ایک کپڑا ملا تھا، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اب ہمیں نعمتیں ہماری دنیاوی زندگی میں ہی مل جائیں گی، اس کے بعد انہوں نے رونا شروع کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7018]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1274، 1275، 4045، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7018، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6785، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 19786» «رقم طبعة با وزير 6979»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (1275).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم