🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

166. ذكر البيان بأن الله جل وعلا كلم عبد الله بن عمرو بن حرام بعد أن أحياه كفاحا-
- ذکر بیان کہ اللہ جل وعلا نے عبد اللہ بن عمرو بن حرام سے اسے زندہ کرنے کے بعد براہ راست بات کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7022
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: لَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: يَا جَابِرُ، مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتُشْهِدَ أَبِي وَتَرَكَ عِيَالا وَدَيْنًَا، فَقَالَ: أَلا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِيَ اللَّهُ بِهِ أَبَاكَ؟ قُلْتُ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِِلا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَإِِنَّ اللَّهَ أَحْيَا أَبَاكَ فَكَلَّمَهُ كِفَاحًا، فَقَالَ: يَا عَبْدِي، تَمَنَّ أُعْطِكَ، قَالَ: تُحْيِينِي فَأُقْتَلَ قَتْلَةً ثَانِيَةً، قَالَ اللَّهُ: إِِنِّي قَضَيْتُ أَنَّهُمْ لا يَرْجِعُونَ"، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ سورة آل عمران آية 169 .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے جابر! کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں پریشان دیکھ رہا ہوں؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد شہید ہو گئے ہیں، انہوں نے بال بچے اور قرض چھوڑا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں خوشخبری نہ دوں جس کے ہمراہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے ملاقات کی ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر کسی کے ساتھ حجاب کے پیچھے سے بات کی ہے لیکن جب اس نے تمہارے باپ کو زندہ کیا تو اس کے ساتھ براہ راست کلام کیا، اس نے کہا: اے میرے بندے! تو آرزو کر میں تمہیں وہ عطا کروں گا، تو اس نے کہا: (اے میرے پروردگار!) مجھے دوبارہ زندہ کر دے حتیٰ کہ مجھے دوسری مرتبہ تیری راہ میں شہید کیا جائے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ لوگ (دنیا کی طرف) واپس نہیں جائیں گے۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ [سورة آل عمران: 169] اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کر دیے جاتے ہیں تم انہیں مردہ ہرگز گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7022]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7022، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4943، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3010، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 190، 2800» «رقم طبعة با وزير 6983»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «التعليق الرغيب» (2/ 190)، «ظلال الجنة» (602). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں