🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

172. ذكر وصف دعاء سعد بن معاذ لما فرغ من قتل بني قريظة-
- ذکر وصف کہ سعد بن معاذ کی دعا جب بنی قریظہ کے قتل سے فارغ ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7028
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَقْفُو أَثَرَ النَّاسِ، فَسَمِعْتُ وَئِيدَ الأَرْضِ مِنْ وَرَائِي، فَالْتَفَتُّ فَإِِذَا أَنَا بِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَمَعَهُ ابْنُ أَخِيهِ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ يَحْمِلُ مِجَنَّهُ، فَجَلَسْتُ إِِلَى الأَرْضِ، فَمَرَّ سَعْدٌ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ قَدْ خَرَجَتْ مِنْهَا أَطْرَافُهُ، فَأَنَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أَطْرَافِ سَعْدٍ، وَكَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ، قَالَتْ: فَمَرَّ وَهُوَ يَرْتَجِزُ، وَيَقُولُ: لَبِّثْ قَلِيلا يُدْرِكِ الْهَيْجَا حَمَلْ مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِِذَا حَانَ الأَجَلْ. قَالَتْ: فَقُمْتُ فَاقْتَحَمَتُ حَدِيقَةً، فَإِِذَا فِيهَا نَفَرٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَيْحَكِ مَا جَاءَ بِكِ، لَعَمْرِي وَاللَّهِ إِِنَّكِ لَجَرِيئَةٌ، مَا يُؤْمِنُكِ أَنْ يَكُونَ تَحَوُّزٌ أَوْ بَلاءٌ، قَالَتْ: فَمَا زَالَ يَلُومُنِي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الأَرْضَ قَدِ انْشَقَّتْ فَدَخَلْتُ فِيهَا، وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ نَصِيفَةٌ لَهُ، فَرَفَعَ الرَّجُلُ النَّصِيفَ عَنْ وَجْهِهِ، فَإِِذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا عُمَرُ، إِِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ، وَأَيْنَ الْفِرَارُ إِِلا إِِلَى اللَّهِ؟ قَالَتْ: وَرَمَى سَعْدًا رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْعَرِقَةِ بِسَهْمٍ، قَالَ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرِقَةَ فَأَصَابَ أَكْحَلَهُ فَقَطَعَهَا، فَقَالَ: لا تُمِتْنِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ قُرَيْظَةَ، وَكَانُوا حُلَفَاءَهُ وَمَوَالِيهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَبَرَأَ كَلْمُهُ، وَبَعَثَ اللَّهُ الرِّيحَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، فَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا، فَلَحِقَ أَبُو سُفْيَانَ بِتِهَامَةَ، وَلَحِقَ عُيَيْنَةَ وَمَنْ مَعَهُ بِنَجْدٍ، وَرَجَعَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ فَتَحَصَّنُوا بِصَيَاصِيهِمْ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى الْمَدِينَةِ، وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَضُرِبَتْ عَلَى سَعْدٍ فِي الْمَسْجِدِ وَوَضَعَ السِّلاحَ، قَالَتْ: " فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: أَوَقَدْ وَضَعْتَ السِّلاحَ، فَوَاللَّهِ مَا وَضَعَتِ الْمَلائِكَةُ السِّلاحَ، اخْرُجْ إِِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتِلْهُمْ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِيلِ وَلَبِسَ لأْمَتَهُ، فَخَرَجَ فَمَرَّ عَلَى بَنِي غَنْمٍ وَكَانُوا جِيرَانَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَنْ مَرِّ بِكُمْ؟ قَالُوا: مَرَّ بِنَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ، فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَاصَرَهُمْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ يَوْمًا، فَلَمَّا اشْتَدَّ حَصْرُهُمْ وَاشْتَدَّ الْبَلاءُ عَلَيْهِمْ، قِيلَ لَهُمُ: انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَشَارُوا أَبَا لُبَابَةَ، فَأَشَارَ إِِلَيْهِمْ أَنَّهُ الذَّبْحُ، فَقَالُوا: نَنْزِلُ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى سَعْدٍ فَحُمِلَ عَلَى حِمَارٍ وَعَلَيْهِ إِِكَافٌ مِنْ لِيفٍ وَحَفَّ بِهِ قَوْمُهُ، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: يَا أَبَا عَمْرٍو، حُلَفَاؤُكَ وَمَوَالِيكَ وَأَهْلُ النِّكَايَةِ وَمَنْ قَدْ عَلِمْتَ، فَلا يُرْجِعُ إِِلَيْهِمْ قَوْلا، حَتَّى إِِذَا دَنَا مِنْ ذَرَارِيِّهِمُ الْتَفَتَ إِِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: قَدْ آنَ لِسَعْدٍ أَنْ لا يُبَالِي فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ، فَلَمَّا طَلَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُومُوا إِِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزِلُوهُ، قَالَ عُمَرُ: سَيِّدُنَا اللَّهُ، قَالَ: أَنْزِلُوهُ، فَأَنْزَلُوهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْكُمْ فِيهِمْ، قَالَ: فَإِِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، وَتُسْبَى ذَرَارِيِّهِمْ، وَتُقْسَمُ أَمْوَالُهُمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ سَعْدٌ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئًا، فَأَبْقِنِي لَهَا، وَإِِنْ كُنْتَ قَطَعْتَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، فَاقْبِضْنِي إِِلَيْكَ، فَانْفَجَرَ كَلْمُهُ وَكَانَ قَدْ بَرَأَ مِنْهُ حَتَّى مَا بَقِيَ مِنْهُ إِِلا مِثْلَ الْحِمَّصِ، قَالَتْ: فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعَ سَعْدٌ إِِلَى بَيْتِهِ الَّذِي ضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَحَضَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، قَالَتْ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِِنِّي لأَعْرِفُ بُكَاءَ أَبِي بَكْرٍ مِنْ بُكَاءِ عُمَرَ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي، وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ: رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ سورة الفتح آية 29، قَالَ عَلْقَمَةُ: فَقُلْتُ أَيْ أُمَّهْ، فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟ قَالَتْ: كَانَ عَيْنَاهُ لا تَدْمَعُ عَلَى أَحَدٍ، وَلَكِنَّهُ إِِذَا وَجَدَ إِِنَّمَا هُوَ آخِذٌ بِلِحْيَتِهِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: غزوہ خندق کے موقع پر میں لوگوں کے پیچھے پیچھے جانے کے لیے نکلی، میں نے اپنے پیچھے زمین پر چلنے کی آواز سنی، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے، ان کے ساتھ ان کے بھتیجے حارث بن اوس رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے ان کی ڈھال اٹھائی ہوئی تھی، میں زمین پر بیٹھ گئی۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ گزرے، تو ان کے جسم پر ایک زرہ تھی جس کے کنارے باہر کی طرف نکلے ہوئے تھے، مجھے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے باہر نکلے ہوئے کناروں سے اندیشہ ہوا، وہ لمبے تڑنگے آدمی تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب وہ گزرے، تو یہ رجز پڑھ رہے تھے: تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ پھر تم موت تک پہنچ جاؤ گے اور وہ کتنی اچھی موت ہے جب آدمی کا وقت پورا ہو جائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اٹھی اور میں ایک باغ کے اندر آ گئی، وہاں کچھ مسلمان موجود تھے ان میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو! تم کیوں آئی ہو؟ اللہ کی قسم! تم نے بڑی جرأت کا مظاہرہ کیا ہے، کس چیز نے تمہیں اس بات سے مامون رکھا کہ کوئی مصیبت یا آزمائش آ سکتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وہ مسلسل مجھے ملامت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے یہ آرزو کی کہ زمین شق ہو جائے اور میں اس میں داخل ہو جاؤں۔ ان لوگوں میں ایک شخص تھا جس نے اپنے چہرے پر کپڑا ڈالا ہوا تھا، انہوں نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: اے عمر! تمہارا ستیاناس ہو، آج آپ نے انتہا کر دی ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کہاں جایا جا سکتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص عرقہ نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر مارا اور بولا: اسے سنبھالو، میں ابن عرقہ ہوں، تو وہ تیر ان کی مخصوص رگ پر لگا اور اس نے اس رگ کو کاٹ دیا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ» اے اللہ! تو مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک بنو قریظہ کے حوالے سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا نہیں کر دیتا۔ وہ لوگ اور ان کے موالی زمانہ جاہلیت میں ان کے حلیف رہے تھے، تو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا زخم ٹھیک ہو گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر آندھی بھیجی۔ ﴿وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا﴾ [سورة الأحزاب: 25] اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے لئے جنگ کی جگہ کافی ہو گیا اور اللہ تعالیٰ قوت والا اور غالب ہے۔ ابوسفیان تہامہ گیا، اس نے عیینہ اور نجد میں موجود اس کے ساتھیوں سے ملاقات کی، بنو قریظہ واپس آ گئے، وہ اپنے علاقے میں قلعہ بند ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف واپس تشریف لائے تو آپ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے لئے مسجد میں چمڑے سے بنے ہوئے خیمے کو لگانے کا حکم دیا، آپ نے ہتھیار اتارے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حتی کہ جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے کہا: کیا آپ نے ہتھیار اتار دیئے ہیں؟ اللہ کی قسم! فرشتوں نے تو ابھی ہتھیار نہیں اتارے، آپ بنو قریظہ کی طرف تشریف لے جائیں اور ان کے ساتھ جنگ کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کا حکم دیا، آپ نے جنگی لباس پہن لیا، آپ گھر سے باہر نکلے اور بنو غنم کے پاس سے گزرے جو مسجد کے پڑوسی تھے، آپ نے دریافت کیا: ابھی تمہارے پاس سے کون گزرا ہے؟ ان لوگوں نے جواب دیا: دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے ہیں (یعنی سیدنا جبرائیل علیہ السلام دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل میں آئے تھے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کے پاس تشریف لائے، آپ نے پچیس دن تک ان کا محاصرہ کیا، جب ان کا محاصرہ شدید ہو گیا اور ان پر آزمائش سخت ہو گئی تو ان سے یہ کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ثالث مان لو۔ ان لوگوں نے ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے انہیں اشارہ کر کے بتایا کہ انہیں ذبح کر دیا جائے گا، تو ان لوگوں نے کہا: ہم سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث تسلیم کرتے ہیں، تو ان لوگوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ثالثی فیصلے پر محاصرہ ختم کروایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو بلوایا، انہیں ایک گدھے پر سوار کر کے لایا گیا جس پر کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی چادر موجود تھی، ان کی قوم کے افراد نے انہیں گھیرا ہوا تھا اور وہ یہ کہہ رہے تھے: اے ابوعمرو! یہ تمہارے حلیف اور موالی ہیں اور لڑائیوں کے ساتھی ہیں اور وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں آپ جانتے ہیں، لیکن سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ جب وہ ان کے بچوں کے قریب ہوئے تو وہ اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے: اب سعد کے لئے وہ وقت آ گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرے، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے سردار کے لئے کھڑے ہو جاؤ اور اسے نیچے اتارو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ہمارا سردار تو اللہ تعالیٰ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے نیچے اتارو۔ انہوں نے اسے نیچے اتارا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ان کے درمیان فیصلہ کرو۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجو لوگوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں کو قیدی بنا لیا جائے، ان کے اموال تقسیم کر دیئے جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے ان کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، انہوں نے کہا: «اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئًا فَأَبْقِنِي لَهَا، وَإِنْ كُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ» اے اللہ! اگر تو نے اپنے نبی کے لئے قریش سے جنگ کو باقی رکھنا ہے، تو مجھے بھی اس کے لیے باقی رکھ اور اگر تو نے اپنے نبی اور ان کے درمیان جنگ کو منقطع کر دیا ہے تو مجھے اپنی طرف قبض کر لے، تو ان کے زخم سے خون جاری ہو گیا حالانکہ وہ اس سے پہلے ٹھیک ہو چکے تھے، یہاں تک کہ صرف معمولی سا زخم رہ گیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اس خیمے میں واپس چلے گئے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے لگوایا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! میں اپنے حجرے میں ہی موجود تھی کہ مجھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے رونے کی آواز صاف سنائی دی، تو اسی طرح ہوا تھا جس طرح اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: ﴿رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾ [سورة الفتح: 29] آپس میں ایک دوسرے کے لئے رحم دل ہیں۔ راوی علقمہ رحمہ اللہ نے کہا: اے ام المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے (یعنی رونے کے وقت کیا کرتے تھے)؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی پر آنسو نہیں بہاتے تھے البتہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی داڑھی مبارک پکڑ لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7028]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 463، 2813، 3217، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1769، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1333، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7027، 7028، 7098، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4356، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3101، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2693 وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3696، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6683، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24919» «رقم طبعة با وزير 6989»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (67).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں