سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب التَّطَوُّعِ وَرَكَعَاتِ السُّنَّةِ
باب: نفل نماز کے ابواب اور سنت کی رکعات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1250
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ".
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں نفل پڑھے گا تو اس کے بدلے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1250]
ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں بطور نفل نماز پڑھتا ہے اس کے لیے ان کے بدلے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 15 (728)، سنن النسائی/قیام اللیل 57 (1802)، (تحفة الأشراف: 15860)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 193 (415)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 100 (1141)، مسند احمد (6/426، 327)، سنن الدارمی/الصلاة 144 (1478) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (728)
حدیث نمبر: 1251
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، الْمَعْنَي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ التَّطَوُّعِ، فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فِي بَيْتِي، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْفَجْرِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، اور مغرب لوگوں کے ساتھ ادا کرتے اور واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ انہیں عشاء پڑھاتے پھر میرے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات میں آپ نو رکعتیں پڑھتے، ان میں وتر بھی ہوتی، اور رات میں آپ کبھی تو دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر اور جب کھڑے ہو کر قرآت فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرآت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو فجر پڑھاتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1251]
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کے متعلق معلوم کیا تو انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے تھے، پھر تشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر میرے گھر میں لوٹ آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے، پھر میرے گھر میں لوٹ آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ انہیں عشاء کی نماز پڑھاتے، پھر میرے گھر تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نو رکعات پڑھتے ان میں وتر (بھی) ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لمبی رات کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور ایک لمبی رات بیٹھ کر نماز پڑھتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور سجدہ کرتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر ہی کرتے اور سجدہ کرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد) میں تشریف لے جاتے اور لوگوں کو فجر کی نماز پڑھاتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (730)، سنن الترمذی/الصلاة 163 (375)، 410 (436)، سنن النسائی/قیام اللیل 18 (1647، 1648)، (تحفة الأشراف: 16207)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 140 (1228)، مسند احمد (6/30، 216) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (730)
مشكوة المصابيح (1162)
مشكوة المصابيح (1162)
حدیث نمبر: 1252
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور جمعہ کے بعد کچھ نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ فارغ ہو کر گھر واپس آ جاتے پھر دو رکعتیں پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1252]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”ظہر سے پہلے دو رکعتیں اور اس (ظہر) کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں اور نماز عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ اور جمعہ کے بعد نہیں پڑھتے تھے حتیٰ کہ لوٹ آتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 39 (937)، صحیح مسلم/الجمعة 18 (882)، سنن النسائی/الجمعة 42 (1428)، (تحفة الأشراف: 8343)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 23 (69)، مسند احمد (2/34) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح خ م الركعتين بعد الجمعة فقط
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (937) صحيح مسلم (882)
حدیث نمبر: 1253
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرَ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر (کی فرض نماز) سے پہلے چار رکعتیں اور صبح کی (فرض نماز) سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1253]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہ چھوڑا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 34 (1182)، سنن النسائی/قیام اللیل 47 (1759)، (تحفة الأشراف: 17599)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43، 63، 148) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1182)