🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب فِي تَخْفِيفِهِمَا
باب: فجر کی سنتوں کو ہلکی پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1255
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ: هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ؟".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ میں کہتی: کیا آپ نے ان میں سورۃ فاتحہ پڑھی ہے؟ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1255]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی سنتیں اس قدر ہلکی پڑھتے تھے کہ میں کہتی: بھلا آپ نے ان میں فاتحہ بھی پڑھی ہے؟ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التھجد 28 (1171)، صحیح مسلم/المسافرین 14 (724)، سنن النسائی/الافتتاح 40 (945)، (تحفة الأشراف: 17913)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/40، 49، 100، 165، 183، 186، 235) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1171) صحيح مسلم (724)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1256
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1256]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی سنتوں میں ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] کی قراءت فرمائی۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 14 (726)، سنن النسائی/الافتتاح 39 (946)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 102 (1148)، (تحفة الأشراف: 13438) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (726)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1257
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادَةَ الْكِنْدِيُّ، عَنْ بِلَالٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ فَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ أَذَانَهُ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّى بِالنَّاسِ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا، وَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ، فَقَالَ:" إِنِّي كُنْتُ رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ:" لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا".
عبیداللہ بن زیاد الکندی کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز فجر کی خبر دیں، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کسی بات میں مشغول کر لیا، وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھیں، یہاں تک کہ صبح خوب نمودار اور پوری طرح روشن ہو گئی، پھر بلال اٹھے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی اور مسلسل دیتے رہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں نکلے، پھر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور بلال نے آپ کو بتایا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک معاملے میں کچھ پوچھ کر کے مجھے باتوں میں لگا لیا یہاں تک کہ صبح خوب نمودار ہو گئی، اور آپ نے نکلنے میں دیر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت فجر کی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا، بلال نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو کافی صبح کر دی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی دیر میں نے کی، اگر اس سے بھی زیادہ دیر ہو جاتی تو بھی میں ان دونوں رکعتوں کو ادا کرتا اور انہیں اچھی طرح اور خوبصورتی سے ادا کرتا۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1257]
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر کی (جماعت کا وقت ہو جانے کی) اطلاع دینے کے لیے آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو کسی بات میں مشغول کر لیا، حتیٰ کہ صبح خوب سفید ہو گئی۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی اور کئی بار خبر دی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لائے، بالآخر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی۔ تو بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو باتوں میں لگا لیا تھا اور وہ ان سے کچھ پوچھ رہی تھیں، حتیٰ کہ خوب صبح ہو گئی اور آپ نے بھی تشریف لانے میں تاخیر کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں فجر کی رکعتیں پڑھ رہا تھا۔ کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے بہت صبح کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اس سے بھی زیادہ صبح کرتا تو میں ان سنتوں کو پڑھتا اور عمدگی اور خوبصورتی سے پڑھتا۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2045)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/14) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1258
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ، عَنْ ابْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ سَيْلَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَدَعُوهُمَا وَإِنْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان دونوں رکعتوں کو مت چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1258]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر کی دو سنتیں مت چھوڑو اگرچہ دشمن کے گھوڑے تم کو کھدیڑ رہے ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15483)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/405) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابن سیلان لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
(عبد ربه) ابن سيلان لم يوثقه غير ابن حبان وقال ابن القطان الفاسي : ’’ فحاله مجهولة لاتعرف‘‘ (بيان الوھم والإيھام 3/ 386 ح 1127)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1259
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ كَثِيرًا مِمَّا كَانَ يَقْرَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا سورة البقرة آية 136 هَذِهِ الْآيَةُ، قَالَ: هَذِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ بِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 52".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فجر کی دونوں رکعتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جس آیت کی تلاوت کرتے تھے وہ «آمنا بالله وما أنزل إلينا» ۱؎ والی آیت ہوتی، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اسے پہلی رکعت میں پڑھتے اور دوسری رکعت میں «آمنا بالله واشهد بأنا مسلمون» ۲؎ پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1259]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں میں اکثر یہ آیات تلاوت کیا کرتے تھے، پہلی رکعت میں ﴿آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا﴾ [سورة البقرة: 136] اور دوسری رکعت میں ﴿آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 52] ۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 14(727)، سنن النسائی/الافتتاح 38 (945)، (تحفة الأشراف: 5669)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/230، 231) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: وضاحت: سورة البقرة: (۱۳۶) وضاحت: سورة آل عمران: (۵۲)
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون إن كثيرا مما
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (727)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1260
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا سورة آل عمران آية 84 فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى بِهَذِهِ الْآيَةِ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ سورة آل عمران آية 53 أَوْ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ سورة البقرة آية 119". شَكَّ الدَّارَوَرْدِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے سنا، پہلی رکعت میں آپ «قل آمنا بالله وما أنزل علينا» ۱؎ اور دوسری رکعت میں «ربنا آمنا بما أنزلت واتبعنا الرسول فاكتبنا مع الشاهدين» ۲؎ یا «إنا أرسلناك بالحق بشيرا ونذيرا ولا تسأل عن أصحاب الجحيم» ۳؎ پڑھ رہے تھے اس میں دراوردی کو شک ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1260]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی سنتوں میں یہ آیات قرأت کرتے ہوئے سنا: پہلی رکعت میں ﴿قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا﴾ [سورة آل عمران: 84] اور دوسری رکعت میں ﴿رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ﴾ [سورة آل عمران: 53] یا ﴿إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ﴾ [سورة البقرة: 119] ، یہ شک عبدالعزیز بن محمد دراوردی کو ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12926) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: وضاحت: سورة آل عمران: (۸۴) وضاحت: سورة آل عمران: (۵۳) وضاحت: سورة البقرة: (۱۱۹)
قال الشيخ الألباني: حسن وأخرجه البيهقي دون قوله أو إنا أرسلناك
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عثمان بن عمر بن موسي قاضي مشهور وثقه ابن حبان وحده وجھله ابن معين وغيره فھو مجھول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں