سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ
باب: عصر کے بعد نفل پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1273
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَقُلْ: إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْهُمَا"، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ، فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ: قُومِي بِجَنْبِهِ، فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَتْ: فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تینوں نے انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا: ان سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعت نفل کے بارے میں پوچھنا اور کہنا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں، حالانکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے، چنانچہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں ان لوگوں کا پیغام پہنچا دیا، آپ نے کہا: ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو! میں ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کی بات انہیں بتا دی، تو ان سب نے مجھے ام المؤمنین ام سلمہ کے پاس اسی پیغام کے ساتھ بھیجا، جس کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا، پھر دیکھا کہ آپ انہیں پڑھ رہے ہیں، ایک روز آپ نے عصر پڑھی پھر میرے پاس آئے، اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے یہ دونوں رکعتیں پڑھنا شروع کیں تو میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ تو جا کر آپ کے بغل میں کھڑی ہو جا اور آپ سے کہہ: اللہ کے رسول! ام سلمہ کہہ رہی ہیں: میں نے تو آپ کو ان دونوں رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب آپ ہی انہیں پڑھ رہے ہیں، اگر آپ ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے ہٹ جانا، اس لڑکی نے ایسا ہی کیا، آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا، تو وہ پیچھے ہٹ گئی، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: ”اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے مجھ سے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے بارے میں پوچھا ہے، دراصل میرے پاس عبدالقیس کے چند لوگ اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر آئے تو ان لوگوں نے مجھے باتوں میں مشغول کر لیا اور میں ظہر کے بعد یہ دونوں رکعتیں نہیں پڑھ سکا، یہ وہی دونوں رکعتیں ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1273]
جناب کریب مولیٰ ابن عباس سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہما اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور کہا: ”انہیں ہم سب کی طرف سے سلام کہنا اور ان سے عصر کے بعد دو رکعتوں کا مسئلہ پوچھنا اور کہنا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ رکعتیں پڑھتی ہیں جب کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے“۔ چنانچہ میں (یعنی کریب) ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ سب بات پہنچائی جو انہوں نے مجھ سے کہی تھی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”جاؤ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے معلوم کرو“۔ میں ان حضرات کے پاس واپس آیا اور ان کا جواب بتایا تو انہوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیج دیا، اسی بات کے ساتھ جو انہوں نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کہی تھی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا تھا کہ آپ ان سے (عصر کے بعد نماز سے) منع فرماتے تھے لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے پایا۔ (ایک دن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھا کر تشریف لائے اور میرے ہاں انصار کے قبیلہ بنی حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رکعتیں پڑھیں تو میں نے خادمہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، میں نے اس سے کہا: ”جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑی ہو جانا اور کہنا کہ ام سلمہ پوچھتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو سنا ہے کہ آپ ان سے منع فرماتے ہیں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پڑھ رہے ہیں؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ فرما دیں تو ان سے ذرا دور ہو جانا“۔ چنانچہ خادمہ نے ایسے ہی کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے دختر ابی امیہ! تو نے عصر کے بعد کی ان دو رکعتوں کے متعلق پوچھا ہے تو بات یہ ہے کہ میرے پاس قبیلہ عبدالقیس کے کچھ لوگ اپنی قوم کا اسلام لے کر آئے اور انہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی رکعتوں سے مشغول کر دیا، تو یہ وہی دو رکعتیں ہیں“۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/السھو 8 (1233)، المغازي 69 (4370)، صحیح مسلم/المسافرین 54 (834)، (تحفة الأشراف: 17571، 18207)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المواقیت 35 (580)، مسند احمد (6/309)، سنن الدارمی/الصلاة 143 (1476) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1233) صحيح مسلم (834)