صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
263. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر سلمان الفارسي رضي الله عنه-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا
حدیث نمبر: 7123
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلا هَذِهِ الآيَةَ: وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لا يَكُونُوا أَمْثَالُكُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلاءِ الَّذِينَ إِنْ تَوَلَّيْنَا اسْتُبْدِلُوا بِنَا، ثُمَّ لا يَكُونُوا أَمْثَالَنَا؟ فَضَرَبَ عَلَى فَخِذِ سَلْمَانَ الْفَارِسَيِّ، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا وَقَوْمُهُ لَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا، لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ فَارِسٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔ ”اگر تم لوگ منہ پھیر لیتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہاری بجائے دوسری قوم لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کون لوگ ہیں اگر ہم منہ پھیر لیں، تو وہ ہماری جگہ آ جائیں گے پھر وہ ہماری طرح نہیں ہوں گے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے زانوں پر ہاتھ مارا اور فرمایا یہ اور اس کی قوم کے لوگ (مراد ہیں) اگر دین ثریا (ستارے جتنی بلندی) پر چلا جائے، تو فارس کے کچھ لوگ وہاں سے بھی اسے حاصل کر لیں گے (یعنی یہ وہاں تک بھی پہنچ جائیں گے)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7123]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7079»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1017).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
حدیث نمبر: 7124
أَخْبَرَنَا أَبُو يَزِيدَ خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: كَانَ أَبِي مِنْ أَبْنَاءِ الأَسَاوِرَةِ، وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى الْكِتَابِ، وَكَانَ مَعِي غُلامَانِ إِذَا رَجَعَا مِنَ الْكِتَابِ دَخَلا عَلَى قَسٍّ، فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا، فَقَالَ لَهُمَا: أَلَمْ أَنْهَكُمَا أَنْ تَأْتِيَانِي بِأَحَدٍ؟ قَالَ: فَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَيْهِ حَتَّى كُنْتُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْهُمَا، فَقَالَ لِي: يَا سَلْمَانُ، إِذَا سَأَلَكَ أَهْلُكَ مَنْ حَبَسَكَ؟ فَقُلْ مُعَلِّمِي، وَإِذَا سَأَلَكَ مُعَلِّمُكَ مَنْ حَبَسَكَ؟ فَقُلْ: أَهْلِي، وَقَالَ لِي: يَا سَلْمَانُ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَحَوَّلَ، قَالَ: قُلْتُ أَنَا مَعَكَ، قَالَ: فَتَحَوَّلَ، فَأَتَى قَرْيَةً فَنَزَلَهَا وَكَانَتِ امْرَأَةٌ تَخْتَلِفُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا حَضَرَ قَالَ: يَا سَلْمَانُ احْتَفِرْ، قَالَ: فَاحْتَفَرْتُ فَاسْتَخْرَجْتُ جَرَّةً مِنْ دَرَاهِمَ، قَالَ: صُبَّهَا عَلَى صَدْرِي، فَصَبَبْتُهَا، فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى صَدْرِي، وَيَقُولُ: وَيْلٌ لِلْقَسِّ، فَمَاتَ، فَنَفَخْتُ فِي بُوقِهِمْ ذَلِكَ، فَاجْتَمَعَ الْقِسِّيسُونَ وَالرُّهْبَانُ، فَحَضَرُوهُ، وَقَالَ: وَهَمَمْتُ بِالْمَالِ أَنْ أَحْتَمِلَهُ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ صَرَفَنِي عَنْهُ، فَلَمَّا اجْتَمَعَ الْقِسِّيسُونَ وَالرُّهْبَانُ، قُلْتُ: إِنَّهُ قَدْ تَرَكَ مَالا فَوَثَبَ شَبَابٌ مِنْ أَهْلِ الْقَرْيَةِ، وَقَالُوا: هَذَا مَالُ أَبَيْنَا كَانَتْ سُرِّيَّتُهُ تَأْتِيَهِ، فَأَخَذُوهُ، فَلَمَّا دُفِنَ، قُلْتُ: يَا مَعْشَرَ الْقِسِّيسِينَ، دُلُّونِي عَلَى عَالِمٍ أَكُونُ مَعَهُ، قَالُوا: مَا نَعْلَمُ فِي الأَرْضِ أَعْلَمَ مِنْ رَجُلٍ كَانَ يَأْتِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ، وَإِنِ انْطَلَقْتَ الآنَ وَجَدْتَ حِمَارَهُ عَلَى بَابِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَانْطَلَقْتُ، فَإِذَا أَنَا بِحِمَارٍ، فَجَلَسْتُ عِنْدَهُ حَتَّى خَرَجَ، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: اجْلِسْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ، قَالَ: فَلَمْ أَرَهُ إِلَى الْحَوْلِ وَكَانَ لا يَأْتِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ إِلا فِي كُلِّ سَنَةٍ فِي ذَلِكَ الشَّهْرِ، فَلَمَّا جَاءَ، قُلْتُ: مَا صَنَعْتَ فِيَّ؟ قَالَ: وَإِنَّكَ لَهَا هُنَا بَعْدُ؟! قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: لا أَعْلَمُ فِي الأَرْضِ أَحَدًا أَعْلَمُ مِنْ يَتِيمٍ خَرَجَ فِي أَرْضِ تِهَامَةَ، وَإِنْ تَنْطَلِقِ الآنَ تُوَافِقْهُ، وَفِيهِ ثَلاثٌ: يَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ، وَلا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، وَعِنْدَ غُضْرُوفِ كَتِفِهِ الْيُمْنَى خَاتَمُ نُبُوَّةٍ مِثْلُ بَيْضَةٍ لَوْنُهَا لَوْنُ جِلْدِهِ، وَإِنِ انْطَلَقْتَ الآنَ وَافَقْتَهُ، فَانْطَلَقْتُ تَرْفَعُنِي أَرْضٌ وَتَخْفِضُنِي أُخْرَى حَتَّى أَصَابَنِي قَوْمٌ مِنَ الأَعْرَابِ، فَاسْتَبْعَدُونِي، فَبَاعُونِي حَتَّى وَقَعْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَسَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ الْعَيْشُ عَزِيزًا، فَسَأَلْتُ أَهْلِي أَنْ يَهَبُوا لِي يَوْمًا، فَفَعَلُوا، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ، فَبِعْتُهُ بِشَيْءٍ يَسِيرٍ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هُوَ؟"، فَقُلْتُ: صَدَقَةٌ، فَقَالَ لأَصْحَابِهِ:" كُلُوا"، وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ، قُلْتُ: هَذِهِ وَاحِدَةٌ، ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَوْهَبْتُ أَهْلِي يَوْمًا، فَوَهَبُوا لِي يَوْمًا، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ، فَبِعْتُهُ بِأَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، فَصَنَعْتُ طَعَامًا، فَأَتَيْتُهُ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟"، قُلْتُ: هَدِيَّةٌ، فَقَالَ بِيَدِهِ:" بِاسْمِ اللَّهِ خُذُوا"، فَأَكَلَ وَأَكَلُوا مَعَهُ، وَقُمْتُ إِلَى خَلْفِهِ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ، فَإِذَا خَاتَمُ النُّبُوَّةِ، كَأَنَّهُ بَيْضَةٌ، قُلْتُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟"، قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْقَسُّ هَلْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ فَإِنَّهُ زَعَمَ أَنَّكَ نَبِيٌّ؟ قَالَ:" لا يَدْخُلُ الْجَنَّة إِلا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي أَنَّكَ نَبِيٌّ، قَالَ:" لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ" .
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد سردار (یا سرکاری اہلکار) تھے میں درس گاہ میں جایا کرتا تھا میرے ساتھ دو لڑکے بھی تھے وہ درس گاہ سے واپس جاتے ہوئے ایک گرجے میں داخل ہوئے ان کے ساتھ میں بھی اندر چلا گیا تو راہب نے ان سے کہا: کیا میں نے تم دونوں کو منع نہیں کیا تھا تم میرے پاس کسی کو نہ لے کر آنا۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس کے پاس آتا جاتا رہا، یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک ان دونوں لڑکوں سے زیادہ محبوب ہو گیا۔ اس راہب نے مجھ سے کہا: اے سلمان گھر والے تم سے پوچھیں گے تمہیں کس نے روک لیا تھا، تو تم کہنا میرے اس استاد نے، اور جب تمہارا استاد تم سے پوچھے تمہیں کس نے روک لیا تھا، تو تم کہنا میرے گھر والوں نے۔ اس نے مجھ سے کہا: اے سلمان میں یہ چاہتا ہوں کہ یہاں سے کہیں اور منتقل ہو جاؤں۔ میں نے کہا: میں آپ کے ساتھ رہوں گا۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ وہاں سے منتقل ہوا اور ایک بستی میں آ گیا اس نے وہاں پڑاؤ کیا وہاں ایک عورت اس کے پاس آنے جانے لگی جب اس کا آخری وقت قریب آیا، تو وہ بولا: اے سلمان تم زمین کھودو۔ میں نے زمین کھودی اور اس میں سے درہموں کا ایک تھیلا نکالا۔ اس نے کہا: یہ میرے سینے کے اوپر ڈال دو۔ میں نے وہ اس کے سینے پر ڈال دیئے تو اس نے اپنا ہاتھ میرے سینے کے اوپر مارنا شروع کیا اور بولا: راہب کے لئے بربادی ہے پھر وہ مر گیا۔ میں نے ان کے باجے میں پھونک مار کر (اس کے مرنے کا) اعلان کیا، تو بہت سے عبادت گزار اور راہب لوگ وہاں آ گئے۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اس مال کے بارے میں ارادہ کیا کہ اسے میں اٹھا کر لے جاتا ہوں لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے میری توجہ اس کی طرف سے ہٹا دی جب وہ عبادت گزار اور راہب لوگ اکٹھے ہو گئے میں نے کہا: اس نے کچھ مال چھوڑا ہے، تو اس بستی کے کچھ نوجوان آ گئے انہوں نے کہا: یہ ہمارے باپ کا مال ہے اس کی کنیز اس کے پاس آتی تھی ان لوگوں نے وہ مال حاصل کر لیا جب اس راہب کو دفن کر دیا گیا، تو میں نے کہا: اے عبادت گزاروں کے گروہ تم کسی ایسے عالم کی طرف میری رہنمائی کرو جس کے ساتھ میں رہوں، تو ان لوگوں نے کہا: ہمیں روئے زمین پر کسی ایسے عالم کے بارے میں پتہ نہیں ہے، جو اس شخص سے زیادہ علم رکھتا ہو جو بیت المقدس آتا ہے، اگر تم وہاں چلے جاتے ہو تو تم اس گدھے کو بیت المقدس کے دروازے پر پا لو گے۔ میں وہاں سے روانہ ہوا وہاں ایک گدھا موجود تھا میں اس کے پاس بیٹھ گیا، یہاں تک کہ وہ عالم باہر آیا میں نے اسے سارا واقعہ سنایا تو وہ بولا: تم بیٹھ جاؤ جب تک میں تمہارے پاس واپس نہیں آتا۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے پورے ایک سال تک اسے نہیں دیکھا وہ شخص سال میں صرف اسی مہینے میں بیت المقدس آیا کرتا تھا جب وہ اگلی مرتبہ آیا: تو میں نے کہا: آپ نے پھر میرے بارے میں کیا سوچا۔ اس نے دریافت کیا: تم اس وقت سے لے کر اب تک یہیں ہو۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے کہا: مجھے روئے زمین میں کسی ایسے شخص کے بارے میں علم نہیں ہے، جو اس یتیم سے زیادہ بڑا عالم ہو جس کا ظہور تہامہ کی سرزمین پر ہو گا اگر تم اب وہاں چلے جاتے ہو، تو تم ان سے مل لو گے ان میں تین خصوصیات ہوں گی وہ تحفے کے طور پر دی جانے والی چیز کھا لیتے ہوں گے لیکن صدقہ کے طور پر دی جانے والی چیز نہیں کھاتے ہوں گے اور ان کے دائیں کندھے کے ابھار کے قریب مہر نبوت ہو گی، جو انڈے جتنی ہو گی اور اس کا رنگ ان کی جلد کی طرح کا ہو گا اگر تم اب چلے جاتے ہو تو ان تک پہنچ جاؤ گے۔
میں منزلوں پر منزلیں مارتا ہوا روانہ ہو گیا، یہاں تک کہ کچھ دیہاتیوں نے مجھے پکڑا انہوں نے مجھے اجنبی سمجھ کر فروخت کر دیا، یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ پہنچ گیا میں نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے سنا زندگی مشکل تھی، میں نے اپنے مالکان سے کہا: مجھے کوئی چیز ہبہ کے طور پر دیں انہوں نے مجھے کوئی چیز دے دی میں روانہ ہوا میں نے کوشش کی، میں نے انہیں تھوڑی قیمت کے عوض میں فروخت کیا پھر میں وہ چیز لے کر آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کیا چیز ہے۔ میں نے عرض کی: یہ صدقہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم اسے کھا لو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے کھانے سے انکار کر دیا۔ میں نے سوچا یہ ایک نشانی مل گئی پھر جتنا اللہ کو منظور تھا اتنا عرصہ گزر گیا پھر میں نے اپنے مالک سے کوئی چیز ہبہ کرنے کے لئے کہا: تو ان لوگوں نے مجھے ایک چیز ہبہ کے طور پر دی، میں روانہ ہوا میں نے کوشش کی پھر میں نے اسے پہلے سے زیادہ قیمت پر فروخت کیا۔ میں نے کھانا تیار کیا میں وہ لے کر آیا اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہے۔ میں نے عرض کی: یہ تحفہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے کہا: اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے کھایا اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی اسے کھایا پھر میں اٹھ کر آپ کے پیچھے آیا میں نے آپ کی چادر کو ہٹایا، تو وہاں انڈے کی طرح کی مہر نبوت موجود تھی، میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کیسے؟ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ سنایا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وہ عبادت گزار شخص جنت میں داخل ہو گا، جس نے یہ بات بیان کی تھی کہ آپ نبی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے مجھے یہ بتایا تھا کہ آپ نبی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں صرف مسلمان شخص داخل نے ہو گا۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7124]
میں منزلوں پر منزلیں مارتا ہوا روانہ ہو گیا، یہاں تک کہ کچھ دیہاتیوں نے مجھے پکڑا انہوں نے مجھے اجنبی سمجھ کر فروخت کر دیا، یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ پہنچ گیا میں نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے سنا زندگی مشکل تھی، میں نے اپنے مالکان سے کہا: مجھے کوئی چیز ہبہ کے طور پر دیں انہوں نے مجھے کوئی چیز دے دی میں روانہ ہوا میں نے کوشش کی، میں نے انہیں تھوڑی قیمت کے عوض میں فروخت کیا پھر میں وہ چیز لے کر آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کیا چیز ہے۔ میں نے عرض کی: یہ صدقہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم اسے کھا لو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے کھانے سے انکار کر دیا۔ میں نے سوچا یہ ایک نشانی مل گئی پھر جتنا اللہ کو منظور تھا اتنا عرصہ گزر گیا پھر میں نے اپنے مالک سے کوئی چیز ہبہ کرنے کے لئے کہا: تو ان لوگوں نے مجھے ایک چیز ہبہ کے طور پر دی، میں روانہ ہوا میں نے کوشش کی پھر میں نے اسے پہلے سے زیادہ قیمت پر فروخت کیا۔ میں نے کھانا تیار کیا میں وہ لے کر آیا اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہے۔ میں نے عرض کی: یہ تحفہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے کہا: اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے کھایا اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی اسے کھایا پھر میں اٹھ کر آپ کے پیچھے آیا میں نے آپ کی چادر کو ہٹایا، تو وہاں انڈے کی طرح کی مہر نبوت موجود تھی، میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کیسے؟ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ سنایا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وہ عبادت گزار شخص جنت میں داخل ہو گا، جس نے یہ بات بیان کی تھی کہ آپ نبی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے مجھے یہ بتایا تھا کہ آپ نبی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں صرف مسلمان شخص داخل نے ہو گا۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7124]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7080»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف بهذا السياق. * [أَبِي إِسْحَاقَ] قال الشيخ: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعيّ، وهو مُدَلِّسٌ، وقد عنعن. وكان اختلط، وإسرائيل - وهو حفيدُه - سَمِعَ منه بعد الاختلاط. وشيخه أبو قُرَّةَ؛ لم يُوثِّقهُ غيرُ المؤلِّف (5/ 587)، ولا يُعرفُ إِلاَّ بهذه الروايةِ! فالسند ضعيف. وبه: أخرجه ابن سعد (4/ 81 - 82)، وأحمد (5/ 438)، وغيرهما. وقد رُوِيَت قصة سليمان هذه مِنْ طُرُقٍ - مُطولاً ومُختصرًا -، وأَطوَلُها وأصحُّها - كما قال الحافظ في «الإصابة» - رواية ابن إسحاق: حدثني عاصم بن عمرو، عن محمود بن لَبيدٍ، عن عبد الله بن عباس، عن سلمان ... فذكره. وليس فيه كثير مِمَّا في هذه الرواية، وهو مُخرَّج في «الصحيحة» (894).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null