صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
290. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر وصف جهد أبي هريرة في أول الإسلام مع المصطفى صلى الله عليه وسلم-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر ابو ہریرہ کی ابتدائی اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محنت کی کیفیت کا
حدیث نمبر: 7151
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَصَابَنِي جَهْدٌ شَدِيدٌ، فَلَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَاسْتَقْرَأْتُهُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، فَدَخَلَ دَارَهُ وَفَتَحَهَا عَلَيَّ، قَالَ: فَمَشَيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ، فَخَرَرْتُ لِوَجْهِي مِنَ الْجَهْدِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي، فَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي وَعَرَفَ الَّذِي بِي، فَانْطَلَقَ إِلَى رَحْلِهِ، فَأَمَرَ لِي بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ، ثُمَّ قَالَ:" عُدْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ"، فَعُدْتُ، فَشَرِبْتُ حَتَّى اسْتَوَى بَطْنِي وَصَارَ كَالْقِدْحِ، قَالَ: وَرَأَيْتُ عُمَرَ فَذَكَرْتُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِي، وَقُلْتُ لَهُ: مَنْ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْكَ يَا عُمَرُ؟ وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَقْرَأْتُكَ الآيَةَ، وَلأَنَا أَقْرَأُ لَهَا مِنْكَ، قَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لأَنْ أَكُونَ أَدْخَلْتُكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي حُمْرُ النَّعَمِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ مجھے شدید بھوک لگ گئی میری ملاقات سیدنا عمر بن خطاب سے ہوئی میں نے ان سے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں دریافت کیا: وہ اپنے گھر کے اندر تشریف لے گئے انہوں نے میرے لیے دروازہ کھولا میں ابھی تھوڑا ہی چلا تھا کہ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے منہ کے بل گر پڑا (میں نے سر اٹھا کر دیکھا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے سر کے پاس کھڑے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: اے ابوہریرہ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھڑا کیا آپ کو میری صورت حال کا اندازہ ہو گیا آپ اپنی رہائش گاہ کی طرف تشریف لے گئے آپ نے میرے لیے دودھ کا پیالہ لانے کا حکم دیا میں نے اسے پی لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ اور پیو۔ میں نے اور پیا، پھر میں نے پیا، یہاں تک کہ میرا پیٹ بھر گیا اور وہ ہنڈیا کی مانند ہو گیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بعد میں میری ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے اپنی اس صورت حال کے بارے میں ان کے سامنے ذکر کیا میں نے ان سے کہا: اے سیدنا عمر! اس بارے میں آپ سے زیادہ حق دار اور کون تھا اللہ کی قسم میں نے آپ سے آیت کا مفہوم دریافت کیا تھا: حالانکہ میں اس آیت کا مفہوم آپ سے زیادہ بہتر طور پر جانتا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم اس وقت اگر میں تمہیں اپنے گھر لے جاتا تو یہ بات میرے لیے اس سے زیادہ محبوب تھی کہ مجھے سرخ اونٹ ملتے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7151]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7107»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (5375).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح