صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
472. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر الخصال التي يرتجى لمن فعلها أو أخذ بها أن يظله الله يوم القيامة في ظل عرشه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر ان خصال کا جن کے کرنے والے یا ان پر عمل کرنے والے سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا
حدیث نمبر: 7338
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لا ظِلَّ إِلا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عُبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَى ذَلِكَ وَتَفَرَّقَا، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سات لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنا خاص سایہ نصیب کرے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا: عادل حکمران، وہ نوجوان جس کی نشوونما اللہ کی عبادت کرتے ہوئے ہوئی، وہ شخص جس کا دل مسجد کے ساتھ معلق رہے اس وقت سے جب وہ مسجد سے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ واپس مسجد کی طرف آ جائے، دو ایسے آدمی جو اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں، اسی محبت پر وہ اکٹھے ہوتے ہوں اور اسی پر جدا ہوتے ہوں، وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کا ذکر کر رہا ہو تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں، وہ شخص جسے کوئی صاحبِ حیثیت اور خوبصورت عورت (گناہ کی) دعوت دے تو وہ یہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جو کوئی صدقہ دے تو اسے اتنا خفیہ رکھے کہ بائیں ہاتھ کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7338]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 660، 1423، 6479، 6806، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1031، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 358، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4486، 7338، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5395، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2391، 2391 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5067، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9796» «رقم طبعة با وزير 7294»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (887): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين