🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

490. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر الإخبار عن وصف الأقوام الذين يحتجون على الله يوم القيامة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ قیامت کے دن کچھ لوگ اللہ سے جھگڑیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7357
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَرْبَعَةٌ يَحْتَجُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ أَصَمُّ، وَرَجُلٌ أَحْمَقُ، وَرَجُلٌ هَرِمٌ، وَرَجُلٌ مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ، فَأَمَّا الأَصَمُّ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، لَقَدْ جَاءَ الإِسْلامُ، وَمَا أَسْمَعُ شَيْئًا، وَأَمَّا الأَحْمَقُ، فَيَقُولُ: رَبِّ، قَدْ جَاءَ الإِسْلامُ وَالصِّبْيَانُ يَحْذِفُونَنِي بِالْبَعَرِ، وَأَمَّا الْهَرِمُ، فَيَقُولُ: رَبِّ، لَقَدْ جَاءَ الإِسْلامُ وَمَا أَعْقِلُ، وَأَمَّا الَّذِي مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ، فَيَقُولُ: رَبِّ، مَا أَتَانِي لَكَ رَسُولٌ، فَيَأْخُذُ مَوَاثِيقَهُمْ لَيُطِيعُنَّهُ، فَيُرْسِلُ إِلَيْهِمْ رَسُولا أَنِ ادْخُلُوا النَّارَ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ دَخَلُوهَا كَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلامًا".
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: چار طرح کے لوگ قیامت کے دن حجت پیش کریں گے: (ایک) بہرا شخص، (دوسرا) احمق شخص، (تیسرا) بے عقل شخص اور (چوتھا) وہ شخص جو زمانہ فترت میں فوت ہو گیا تھا۔ جہاں تک پہلے شخص کا تعلق ہے تو وہ یہ کہے گا: اے میرے پروردگار! اسلام آیا لیکن میں نے کسی چیز کے بارے میں نہیں سنا۔ احمق شخص یہ کہے گا: اے میرے پروردگار! اسلام آیا اور اس وقت بچے مجھے مینگنیوں سے مارتے تھے (یعنی میرا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا)۔ جہاں تک بے عقل شخص کا تعلق ہے وہ یہ کہے گا: جب اسلام آیا مجھے کسی چیز کی سمجھ بوجھ نہیں تھی۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جو زمانہ فترت میں فوت ہو گیا تھا، تو وہ یہ کہے گا: اے میرے پروردگار! تیرا کوئی رسول میرے پاس نہیں آیا۔ پھر پروردگار ان لوگوں سے یہ عہد لے گا کہ وہ اس کی فرمانبرداری ضرور کریں گے، پھر پروردگار ان کی طرف ایک پیغام رساں بھیجے گا کہ تم لوگ جہنم میں داخل ہو جاؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! اگر وہ اس میں داخل ہو جائیں، تو وہ ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7357]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7357، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1454، 1456، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16559، والبزار فى (مسنده) برقم: 9597، والطبراني فى(الكبير) برقم: 841» «رقم طبعة با وزير 7313»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1434)، «التعليق على رفع الأستار» (ص 113).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں