صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
491. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر الإخبار بأن أعضاء المرء في القيامة تشهد عليه بما عمل في الدنيا-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ قیامت میں انسان کے اعضاء اس کے دنیاوی اعمال پر گواہی دیں گے
حدیث نمبر: 7358
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، فَقَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مِمَّا أَضْحَكُ؟"، قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ، يَقُولُ: يَا رَبِّ، أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ؟ قَالَ: يَقُولُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّي لا أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلا شَاهِدًا مِنِّي، فَيَقُولُ: كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا، وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ عَلَيْكَ شَهِيدًا، فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، ثُمَّ يُقَالُ لأَرْكَانِهِ: انْطِقِي، فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ، ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلامِ، فَيَقُولُ: بُعْدًا لَكُنَّ، وَسُحْقًا، فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ مسکرا دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں کس بات پر مسکرایا ہوں؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بندے کے اپنے پروردگار سے گفتگو کرنے پر (مجھے ہنسی آ گئی)، وہ بندہ یہ کہے گا: اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھے ظلم سے نہیں بچایا؟ پروردگار فرمائے گا: جی ہاں۔ بندہ عرض کرے گا: تو پھر میں اپنے خلاف کسی بھی شخص کی گواہی کو قبول نہیں کروں گا، کوئی ایسا گواہ ہونا چاہیے جو میری طرف سے ہو، تو پروردگار فرمائے گا: آج کے دن تمہارا اپنا وجود تمہارے خلاف گواہ ہونے کے لیے کافی ہے اور معزز فرشتے بھی تمہارے خلاف گواہ ہیں۔ پھر اس شخص کے منہ پر مہر لگائی جائے گی اور اس کے اعضا سے یہ کہا جائے گا: تم کلام کرو۔ پھر وہ اعضا اس کے اعمال کے بارے میں کلام کریں گے۔ پھر اسے بولنے کا موقع دیا جائے گا، تو وہ یہ کہے گا: تم لوگ دور ہو جاؤ، پرے ہو جاؤ، میں تو تمہیں بچانے کے لیے (پروردگار سے) گفتگو کر رہا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7358]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2969، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7358، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8876، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11589، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3975، 3977، والبزار فى (مسنده) برقم: 7476، 7477» «رقم طبعة با وزير 7314»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (8/ 217).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم