صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
492. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن أحدا في القيامة لا يحمل وزر أحد-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ قیامت میں کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا
حدیث نمبر: 7359
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ؟"، قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لا دِرْهَمَ لَهُ، وَلا مَتَاعَ لَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ، فَيَأْتِي وَقَدْ شَتَمَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيَقْعُدُ، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَ مَا عَلَيْهِ، أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ، فَطُرِحَ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے درمیان مفلس وہ شخص ہوتا ہے جس کے پاس درہم نہ ہوں اور ساز و سامان نہ ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت سے تعلق رکھنے والا وہ شخص مفلس ہو گا جو قیامت کے دن اپنی نمازیں، روزے اور زکاۃ لے کر آئے گا۔ جب وہ آئے گا تو اس نے کسی کو برا کہا ہو گا، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا، تو وہ شخص بیٹھ جائے گا، پھر اس کی نیکیوں میں سے کسی کو کچھ دے دیا جائے گا اور کسی کو اس کی کچھ نیکیاں دے دی جائیں گی، پھر اگر اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی اور اس کے ذمے ادائیگی ابھی باقی ہو گی، تو دوسرے لوگوں کی خطائیں لی جائیں گی (اور اس کے نامہ اعمال میں ڈال دی جائیں گی) پھر اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7359]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2581، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4411، 7359، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2418، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8144، 8530، 8964، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6499، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2778» «رقم طبعة با وزير 7315»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - مضى (296). تنبيه!! ليس موجود بالرقم المشار إليه وإنما موجود برقم (4394) الموافق لـ (4411) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم