صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
512. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر الإخبار عن وصف جواز الناس على الصراط نسأل الله السلامة ذلك اليوم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ لوگوں کا صراط پر گزرنے کی کیفیت، ہم اللہ سے اس دن کی سلامتی مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 7379
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيَمُرُّ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ وَعَلَيْهِ حَسَكٌ، وَكَلالِيبُ، وَخَطَاطِيفُ تَخْطَفُ النَّاسَ يَمِينًا وَشِمَالا، وَبِجَنْبَتَيْهِ مَلائِكَةٌ، يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَمُرُّ مِثْلَ الرِّيحِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ مِثْلَ الْفَرَسِ الْمُجْرَى، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْعَى سَعْيًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي مَشْيًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَحْبُو حَبْوًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَزْحَفُ زَحْفًا، فَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا، فَلا يَمُوتُونَ، وَلا يَحْيَوْنَ، وَأَمَّا أُنَاسٌ، فَيُؤْخَذُونَ بِذُنُوبٍ وَخَطَايَا، فَيُحْرَقُونَ، فَيَكُونُونَ فَحْمًا، ثُمَّ يُؤْذَنُ فِي الشَّفَاعَةِ، فَيُؤْخَذُونَ ضِبَارَاتٍ ضِبَارَاتٍ، فَيَقْذَفُونَ عَلَى نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا رَأَيْتُمُ الصَّبْغَاءَ شَجَرَةً تَنْبُتُ فِي الْفَضَاءِ؟ فَيَكُونُ مِنْ آخِرِ مَنَ أُخْرِجَ مِنَ النَّارِ رَجُلٌ عَلَى شَفَتِهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، صَرِّفْ وَجْهِي عَنْهَا، فَيَقُولُ: عَهْدَكَ وَذِمَّتَكَ لا تَسْأَلْنِي غَيْرَهَا، قَالَ: وَعَلَى الصِّرَاطِ ثَلاثُ شَجَرَاتٍ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ آكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا، فَيَقُولُ: عَهْدَكَ وَذِمَّتَكَ لا تَسْأَلْنِي شَيْئًا غَيْرَهَا، قَالَ: ثُمَّ يَرَى أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ آكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا، وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا، قَالَ: فَيَقُولُ: عَهْدَكَ وَذِمَّتَكَ لا تَسْأَلْنِي غَيْرَهَا، ثُمَّ يَرَى أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ آكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا، قَالَ: ثُمَّ يَرَى سَوَادَ النَّاسِ وَيَسْمَعُ كَلامَهُمْ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ" ، قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: اخْتَلَفَ أَبُو سَعِيدٍ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا، وَقَالَ الآخَرُ: فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ، فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَكَذَا حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى وَعَلَى الصِّرَاطِ ثَلاثُ شَجَرَاتٍ، وَإِنَّمَا هُوَ عَلَى جَانِبِ الصِّرَاطِ ثَلاثُ شَجَرَاتٍ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جہنم کے پل پر سے لوگ گزریں گے۔ اس پر بڑے بڑے کانٹے اور آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے، جو لوگوں کو دائیں طرف سے اور بائیں طرف سے اچک لیں گے۔ اس کے دونوں پہلوؤں پر فرشتے موجود ہوں گے اور وہ یہ کہہ رہے ہوں گے: «اللَّهُمَّ سَلِّمْ، سَلِّمْ» ”اے اللہ! سلامتی عطا کرنا، سلامتی عطا کرنا“، تو کچھ لوگ ہوا کی مانند (تیزی سے) گزر جائیں گے۔ کچھ لوگ تیز رفتار گھوڑے کی طرح، کچھ دوڑنے والے شخص کی طرح، کچھ چلنے والے شخص کی طرح، کچھ لوگ گھسٹ کر گزریں گے اور کچھ لوگ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے گزریں گے۔ جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے جو اس کے اہل ہوں گے، تو وہ جہنم میں نہ تو مریں گے اور نہ ہی زندہ رہیں گے۔ البتہ کچھ لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے اور خطاؤں کی وجہ سے ان کی گرفت کی جائے گی اور انہیں جلایا جائے گا۔ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے، تو پھر شفاعت کی اجازت دی جائے گی، تو انہیں گروہ گروہ کر کے لایا جائے گا اور جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا اور وہ یوں پھوٹ پڑیں گے جس طرح سیلاب کی گزرگاہ میں دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے وہ درخت نہیں دیکھا جو ایسی کھلی جگہ پر اگتا ہے؟“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ”جہنم سے نکالا جانے والا آخری شخص وہ ہو گا جو جہنم کے کنارے پر ہو گا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میرا چہرہ جہنم سے پھیر دے۔ پروردگار فرمائے گا: تم یہ عہد کرو کہ تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پل صراط پر تین درخت ہوں گے۔ وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس درخت کی طرف پھیر دے تاکہ میں اس کا پھل کھا لوں اور سائے میں آ جاؤں۔ پروردگار فرمائے گا: تم یہ عہد کرو تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر وہ شخص دوسرے درخت کو دیکھے گا وہ اس سے زیادہ اچھا ہے تو وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس کی طرف پھیر دے تاکہ میں اس کا پھل کھا لوں اور اس کے سائے میں آ جاؤں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پروردگار یہ فرمائے گا: تم یہ عہد کرو کہ تم اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگو گے۔ پھر وہ تیسرے درخت کو دیکھے گا کہ وہ اس سے بھی زیادہ اچھا ہے تو عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! تو مجھے اس درخت کے پاس لے جا تاکہ میں اس کا پھل کھاؤں اور اس کے سائے میں آؤں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر وہ شخص (جنت میں) لوگوں کے ہجوم کو دیکھے گا اور ان کا کلام سنے گا تو عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت میں داخل کر دے۔“ ابونضرہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: یہاں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے درمیان (الفاظ کو نقل کرنے) میں اختلاف ہوا۔ ان میں سے ایک کا یہ کہنا تھا: ”پروردگار اسے جنت میں داخل کر دے گا اور اسے دنیا اور اس کی مانند مزید (جگہ جنت میں عطا کرے گا)“ اور دوسرے صحابی نے یہ کہا: ”پھر وہ شخص جنت میں داخل ہو گا اور اسے دنیا اور اس کی مانند دس گنا (مزید جگہ) عطا کی جائے گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) امام ابویعلی نے اسی طرح یہ بیان کیا ہے کہ پل صراط پر تین درخت ہوں گے حالانکہ روایت کے اصل الفاظ یہ ہیں: ”پل صراط کے ایک طرف (یعنی جنت والی طرف) تین درخت ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7379]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 22، 2440، 4581، 4919، 6535، 6560، 7439، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 183، 184، 185، 188، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 222، 7377، 7379، 7434، 7485، 182، 184، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3369، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5025، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11264، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2598، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2859، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 60، 179، 4280، 4309، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11172» «رقم طبعة با وزير 7335»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
تنبيه!! هذا الحديث فصله الشيخ الألباني جزئين: الجزء الأول: 7335 - أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، ... فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا». وقال عن هذا الجزء: صحيح. الجزء الثاني: قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَكَذَا حَدَّثَنَا ... ثَلاَثُ شَجَرَاتٍ». وقال عن هذا الجزء: صحيح - «الصحيحة» (3503). - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
حدیث نمبر: 7380
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا: يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ أَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ:" عَلَى الصِّرَاطِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ۖ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ﴾ [سورة إبراهيم: 48] ”جب زمین کو دوسری زمین میں تبدیل کر دیا جائے گا اور آسمان کو بھی (تبدیل کر دیا جائے گا) اور سب لوگ ایک اور زبردست اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے“ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ تو اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پل صراط پر ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7380]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 214، 2791، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 330، 331، 7380، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3364، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3121، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2851، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4279، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24703» «رقم طبعة با وزير 7336»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (8/ 127 - 128).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح