صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
537. باب وصف الجنة وأهلها - ذكر الإخبار عن وصف الجنابذ التي أعدها الله جل وعلا في دار كرامته لمن أطاعه في دار الدنيا-
جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزت کی دار میں اپنی اطاعت کرنے والوں کے لیے جو جنابذ تیار کیے ان کی کیفیت
حدیث نمبر: 7406
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ، فَفَرَجَ صَدْرِي، ثُمَّ غَسْلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا، فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي، فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ، فَلَمَّا جِئْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا، قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ سَمَاءِ الدُّنْيَا: افْتَحْ، قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا جِبْرِيلُ، قَالَ: هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، مَعِي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، قَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، وَالابْنِ الصَّالِحِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا آدَمُ، وَهَذِهِ الأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَالأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، ثُمَّ قَالَ: خَرَجَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ لِخَازِنِهَا: افْتَحْ، فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَفَتَحَ"، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَاوَاتِ آدَمَ، وَإِدْرِيسَ، وَعِيسَى، وَمُوسَى، وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا، وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا حَبَّةَ الأَنْصَارِيَّ، كَانَا يَقُولانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثُمَّ عَرَجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الأَقْلامِ"، قَالَ ابْنُ حَزْمٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلاةً، فَرَجَعْتُ كَذَلِكَ حَتَّى مَرَرْتُ بِمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلاةً، فَقَالَ لِي مُوسَى: فَرَاجِعْ رَبَّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لا تُطِيقُ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لا تُطِيقُ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ، وَهِيَ خَمْسُونَ لا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ، فَقُلْتُ: قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَى بِي سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى، فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لا أَدْرِي مَا هِيَ، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ، وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں مکہ میں موجود تھا۔ میرے گھر کی چھت کو کھولا گیا سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے انہوں نے میرے سینے کو کھولا اسے آب زم زم کے ذریعے دھویا۔ پھر وہ ایک طشت لے کر آئے، جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے اسے میرے سینے میں انڈیل کر پھر اسے سی دیا۔ پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر آسمان کی طرف چڑھ گئے جب ہم آسمان دنیا پر آئے تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آسمان دنیا کے نگران سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس نے کہا: کون ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل ہوں۔ اس نے دریافت کیا: آپ کے ساتھ کوئی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: میرے ساتھ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس نے دریافت کیا: کیا انہیں پیغام بھجوایا گیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! تو دروازے کو کھول دیا گیا۔ جب ہم آسمان دنیا پر چڑھے تو وہاں ایک شخص موجود تھا، جس کے دائیں طرف بہت سارے لوگ تھے اور بائیں طرف بہت سارے لوگ تھے۔ جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتا تھا، تو ہنسنے لگتا تھا اور جب وہ اپنے بائیں طرف دیکھتا تھا تو رونے لگتا تھا۔ اس نے کہا: نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اے جبرائیل یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ سیدنا آدم علیہ السلام ہیں اور یہ ان کے دائیں طرف اور بائیں طرف موجود لوگوں سے مراد ان کی اولاد ہے۔ ان لوگوں میں سے دائیں طرف والے جنتی ہیں اور بائیں طرف والے جہنمی ہیں۔ جب یہ اپنے دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنسنے لگتے ہیں اور جب اپنے بائیں طرف دیکھتے ہیں تو رونے لگتے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر جبرائیل مجھے لے کر دوسرے آسمان پر آئے انہوں نے اس کے نگران سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس کے نگران نے ان سے دریافت کیا وہی کچھ جو آسمان دنیا کے نگران نے کہا: تھا: پھر اس نے دروازہ کھول دیا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں میں سیدنا آدم علیہ السلام، سیدنا ادریس علیہ السلام، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کی۔ اللہ تعالیٰ کا درود سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان حضرات پر نازل ہو۔ البتہ راوی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ان حضرات کے مقامات کون کون سے تھے؟ صرف یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان دنیا پر سیدنا آدم علیہ السلام کو پایا تھا اور چھٹے آسمان پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو پایا تھا۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: ابن حزم نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوحبہ انصاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”پھر وہ مجھے لے کر اوپر چڑھے، یہاں تک کہ میں مقام مستوی تک پہنچ گیا جہاں میں نے قلموں کے چلنے کی آواز سنی۔“
ابن حزم کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہاں اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، میں واپس آیا تو میرا گزر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس ہوا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: آپ کے پروردگار نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے جواب دیا۔ اس نے ان لوگوں پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے مڑ کر کہا:۔ آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت اتنی طاقت نہیں رکھے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں اپنے پروردگار کے پاس واپس آیا تو اس نے نصف کر دیں۔ میں پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا: آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت اتنی طاقت نہیں رکھے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کیا تو اس نے فرمایا: یہ پانچ نمازیں ہوں گی مگر پچاس شمار ہوں گی۔ ہمارا فرمان تبدیل نہیں ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا: اپنے پروردگار سے رجوع کیجئے، میں نے یہ کہا: مجھے اپنے پروردگار سے حیا آتی ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ (یعنی جبرائیل) مجھے ساتھ لے کر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ وہ مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے آئے جسے مختلف رنگوں نے ڈھانپا ہوا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا چیز ہے۔ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو اس میں موتیوں سے بنی ہوئی عمارتیں تھیں اور اس کی مٹی مشک جیسی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7406]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر جبرائیل مجھے لے کر دوسرے آسمان پر آئے انہوں نے اس کے نگران سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس کے نگران نے ان سے دریافت کیا وہی کچھ جو آسمان دنیا کے نگران نے کہا: تھا: پھر اس نے دروازہ کھول دیا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں میں سیدنا آدم علیہ السلام، سیدنا ادریس علیہ السلام، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کی۔ اللہ تعالیٰ کا درود سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان حضرات پر نازل ہو۔ البتہ راوی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ان حضرات کے مقامات کون کون سے تھے؟ صرف یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان دنیا پر سیدنا آدم علیہ السلام کو پایا تھا اور چھٹے آسمان پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو پایا تھا۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: ابن حزم نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوحبہ انصاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”پھر وہ مجھے لے کر اوپر چڑھے، یہاں تک کہ میں مقام مستوی تک پہنچ گیا جہاں میں نے قلموں کے چلنے کی آواز سنی۔“
ابن حزم کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہاں اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، میں واپس آیا تو میرا گزر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس ہوا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: آپ کے پروردگار نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے جواب دیا۔ اس نے ان لوگوں پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے مڑ کر کہا:۔ آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت اتنی طاقت نہیں رکھے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں اپنے پروردگار کے پاس واپس آیا تو اس نے نصف کر دیں۔ میں پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا: آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت اتنی طاقت نہیں رکھے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کیا تو اس نے فرمایا: یہ پانچ نمازیں ہوں گی مگر پچاس شمار ہوں گی۔ ہمارا فرمان تبدیل نہیں ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا: اپنے پروردگار سے رجوع کیجئے، میں نے یہ کہا: مجھے اپنے پروردگار سے حیا آتی ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ (یعنی جبرائیل) مجھے ساتھ لے کر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ وہ مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے آئے جسے مختلف رنگوں نے ڈھانپا ہوا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا چیز ہے۔ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو اس میں موتیوں سے بنی ہوئی عمارتیں تھیں اور اس کی مٹی مشک جیسی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7406]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7363»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (349)، م (1/ 99 - 101).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم