🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. صِفَةُ أَوْلِيَاءِ اللهِ تَعَالَى وَالتَّحْذِيرُ عَنْ مُعَادَاتِهِمْ
اللہ کے اولیاء کی صفات اور ان کی دشمنی سے خبردار کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4
4 - حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني الليث بن سعد، عن عياش بن عباس القِتْباني، عن زيد بن أسلمَ، عن أبيه: أنَّ عمرَ خرج إلى المسجد يومًا فوَجَدَ معاذَ بنَ جبل عند قبر رسول الله ﷺ يبكي، فقال: ما يُبكيكَ يا معاذُ؟ قال: يُبكيني حديثٌ سمعتُه من رسول الله ﷺ يقول:"اليسيرُ من الرِّياءِ شِركٌ، ومَن عادى أولياءَ الله فقد بارَزَ اللهَ بالمحارَبة، إنَّ الله يحبُّ الأبرارَ الأتقياءَ الأخفياءَ، الذين إنْ غابُوا لم يُفتَقَدُوا، وإن حَضَروا لم يُعرَفُوا، قلوبهم مصابيحُ الهدى، يَخرُجون من كل غبراءَ مُظلِمة" (1) .
هذا حديث لم يُخرَّج في"الصحيحين"، وقد احتجَّا جميعًا بزيد بن أسلم عن أبيه عن الصحابة، واتفقا جميعًا على الاحتجاج بحديث الليث بن سعد عن عياش بن عباس القِتْباني، وهذا إسنادٌ مصري صحيح، ولا يُحفَظ له عِلّة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4 - صحيح ولا علة له
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک دن مسجد کی طرف نکلے تو انہوں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے روتے ہوئے پایا، انہوں نے پوچھا: اے معاذ! آپ کو کس چیز نے رلایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے اس حدیث نے رلایا ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: معمولی سی ریاکاری بھی شرک ہے، اور جس نے اللہ کے ولیوں سے دشمنی کی اس نے اللہ کے ساتھ اعلانیہ اعلانِ جنگ کیا، بے شک اللہ ایسے نیکوکار، متقی اور گمنام لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو اگر غائب ہوں تو انہیں تلاش نہیں کیا جاتا اور اگر وہ حاضر ہوں تو انہیں پہچانا نہیں جاتا، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، وہ ہر گرد آلود تاریک فتنوں سے نکل آتے ہیں۔
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج صحیحین میں نہیں کی گئی، حالانکہ ان دونوں نے زید بن اسلم عن ابیہ کے واسطے سے صحابہ کرام سے احتجاج کیا ہے، اور ان دونوں نے عیاش بن عباس القتبانی سے لیث بن سعد کی روایت پر احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور یہ ایک صحیح مصری سند ہے جس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 4]
تخریج الحدیث: «حديث حسن إن شاء الله، وهذا إسناد ظاهره الصحة إلّا أنَّ فيه علَّة لم يتنبَّه لها الحاكم هنا، فقد خالف الليثَ بنَ سعد في إسناده نافعُ بن يزيد الكَلَاعي - وهو ثقة - فرواه عن عياش بن عباس القِتْباني عن عيسى بن عبد الرحمن - وهو ابن فروة الزُّرَقي - ...» [ترقيم الرساله 4] [ترقيم الشركة 4] [ترقيم العلميه 4]

الحكم على الحديث: حديث حسن إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں