المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
51. الدُّنْيَا كَالثَّغْبِ شُرِبَ صَفْوُهُ وَبَقِيَ كَدَرُهُ
دنیا ایک ندی کی مانند ہے، اس کا صاف پانی پی لیا گیا اور کدورت باقی رہ گئی۔
حدیث نمبر: 425
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدثنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا الأعمش. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا موسى بن إسحاق الأنصاري، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، حدثنا أَبي، حدثنا الأعمش. وحدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن النَّضْر الجارُودي، حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا جَرِير وأبو معاوية، عن الأعمش، عن شَقيق، عن عبد الله قال: لقد سألني اليومَ رجلٌ عن شيء ما أدري ما أقولُ له، قال: أرأيتَ رجلًا مُؤْدِيًا نشيطًا حريصًا على الجهاد، يقول: يَعزِمُ علينا أمراؤُنا أشياء لا نُحصِيها، قال: فقلت: والله ما أدري ما أقول لك، إلّا أنَّا كنَّا نكون مع رسول الله ﷺ فلعلَّه لا يأمرُ بالشيء إلّا فعلناه، وما أشبَهَ ما غَبَرَ من الدنيا إلّا كالثَّعْب شُرِبَ صَفْوُه وبقيَ كَدَرُه، وإِنَّ أحدكم لن يزالَ بخير ما اتقى الله ﷿، وإذا حاكَ في نفسه شيءٌ أتى رجلًا فسأله فشَفَاه، وايْمُ اللهِ ليُوشِكنَّ أن لا تجدوه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وأظنُّه لتوقيفٍ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 420 - على شرطهما
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وأظنُّه لتوقيفٍ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 420 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آج مجھ سے ایک شخص نے ایسی چیز پوچھی کہ مجھے سمجھ نہ آیا کہ اسے کیا جواب دوں؛ اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اس شخص کے بارے میں جو چاق و چوبند اور جہاد کا حریص ہو، مگر وہ کہتا ہے کہ ہمارے امراء ہم پر ایسی چیزیں لازم کرتے ہیں جن کا ہم شمار نہیں کر سکتے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ تمہیں کیا کہوں، سوائے اس کے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کا حکم دیتے تھے ہم اسے کر گزرتے تھے؛ اور دنیا کی مثال اس حوض کی طرح ہے جس کا صاف پانی پی لیا گیا ہو اور نیچے گدلا پانی باقی رہ گیا ہو؛ تم میں سے کوئی اس وقت تک خیر پر رہے گا جب تک وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا رہے گا، اور جب اس کے دل میں کوئی کھٹک پیدا ہو تو وہ کسی (عالم) کے پاس جا کر پوچھے تو وہ اسے شفا بخش (تسلی بخش) جواب دے دے گا، اور اللہ کی قسم! قریب ہے کہ تم ایسے (عالم) کو نہ پاؤ گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 425]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 425]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، جرير هو ابن عبد الحميد، وأبو معاوية هو محمد بن خازم الضرير، وشقيق: هو ابن سلمة أبو وائل» [ترقيم الرساله 425] [ترقيم الشركة 419] [ترقيم العلميه 420]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح