🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. باب دُعَاءِ الْمُصَدِّقِ لأَهْلِ الصَّدَقَةِ
باب: زکاۃ وصول کرنے والا زکاۃ دینے والوں کے لیے دعا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1590
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، وَأَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ:كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ" قَالَ: فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد (ابواوفی) اصحاب شجرہ ۱؎ میں سے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی قوم اپنے مال کی زکاۃ لے کر آتی تو آپ فرماتے: اے اللہ! آل فلاں پر رحمت نازل فرما، میرے والد اپنی زکاۃ لے کر آپ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر رحمت نازل فرما ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1590]
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے (بیعت رضوان کے موقع پر) درخت کے نیچے بیعت کی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں جب بھی کوئی قوم اپنی زکوٰۃ لے کر آتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دعا دیتے تھے: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ» اے اللہ! آل فلاں پر اپنی رحمت نازل فرما (اور انہیں برکت دے) میرے والد بھی اپنی زکوٰۃ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى» اے اللہ! آل ابی اوفی پر اپنی رحمت نازل فرما (اور انہیں برکت دے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 64 (1497)، المغازي 35 (4166)، الدعوات 19 (6332)، 33 (6359)، صحیح مسلم/الزکاة 54(1078)، سنن النسائی/الزکاة 13 (2461)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 8 (1796)، (تحفة الأشراف: 5176)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/353، 354، 355، 381، 383) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ان لوگوں میں سے تھے جو صلح حدیبیہ کے موقع پر بیعت رضوان میں شریک تھے۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ جو خود سے اپنی زکاۃ ادا کرنے آئے عامل کو اس کو دعا دینی چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1497) صحيح مسلم (1078)
مشكوة المصابيح (3886)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں