المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. مَنْ يَجِبُ عَلَيْه الْجُمُعَةُ
جن لوگوں پر جمعہ فرض ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 1074
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا عُبيد بن محمد العِجَلي (1) ، حدثني العباس بن عبد العظيم العَنْبري، حدثني إسحاق بن منصور، حدثنا هُرَيم بن سفيان، عن إبراهيم بن محمد بن المنتشِر، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شِهاب، عن أبي موسى، عن النبي ﷺ قال:"الجُمعة حقٌّ واجبٌ على كلِّ مسلمٍ في جماعةٍ إلّا أربعةً: عبدٌ مملوك، أو امرأةٌ، أو صبيٌّ، أو مريضٌ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد اتفقا جميعًا على الاحتجاج بهُرَيم ابن سفيان، ولم يُخرجاه. ورواه ابن عيينة عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر، ولم يذكر أبا موسى في إسناده، وطارقُ بن شِهاب ممن يُعَدُّ في الصحابة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1062 - صحيح
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد اتفقا جميعًا على الاحتجاج بهُرَيم ابن سفيان، ولم يُخرجاه. ورواه ابن عيينة عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر، ولم يذكر أبا موسى في إسناده، وطارقُ بن شِهاب ممن يُعَدُّ في الصحابة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1062 - صحيح
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ (کی نماز) باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر حق اور واجب ہے، سوائے چار افراد کے: غلام، عورت، بچہ یا مریض۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، ان دونوں نے ہریم بن سفیان سے احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ ابن عیینہ نے ابراہیم بن محمد سے اسے روایت کیا تو انہوں نے اپنی سند میں ابوموسیٰ کا ذکر نہیں کیا، اور طارق بن شہاب کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1074]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، ان دونوں نے ہریم بن سفیان سے احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ ابن عیینہ نے ابراہیم بن محمد سے اسے روایت کیا تو انہوں نے اپنی سند میں ابوموسیٰ کا ذکر نہیں کیا، اور طارق بن شہاب کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1074]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، إلّا أنَّ ذكر أبي موسى في إسناده شاذ، فقد تفرَّد به عبيدٌ العجل، ولم يذكره غيره، قال الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة) " 10/ 35 الحاكم وشيخه أبو بكر بن إسحاق وشيخه عبيد بن محمد حفاظ، لكنها زيادة شاذة- قلنا: لكن عدم ذكره لا يضر، فطارق بن ...» [ترقيم الرساله 1074] [ترقيم الشركة 1066] [ترقيم العلميه 1062]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح