🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. باب فِي الْخَرْصِ
باب: درخت پر پھل کے تخمینہ لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1605
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: جَاءَ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَى مَجْلِسِنَا، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا خَرَصْتُمْ فَجُذُّوا وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا أَوْ تَجُذُّوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبْعَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: الْخَارِصُ يَدَعُ الثُّلُثَ لِلْحِرْفَةِ.
عبدالرحمٰن بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہماری مجلس میں تشریف لائے، انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جب تم پھلوں کا تخمینہ کر لو تب انہیں کاٹو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو اگر تم ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو ایک چوتھائی ہی چھوڑ دیا کرو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اندازہ لگانے والا ایک تہائی بیج بونے وغیرہ جیسے کاموں کے لیے چھوڑ دے گا، اس کی زکاۃ نہیں لے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1605]
جناب عبدالرحمٰن بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہماری مجلس میں آئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا: جب تم درختوں پر پھلوں کا اندازہ لگا لو، تو تم ان کا پھل اتار سکتے ہو اور اندازہ کیے ہوئے پھل سے تیسرا حصہ چھوڑ دیا کرو۔ اگر تم تیسرا حصہ نہ چھوڑو، تو چوتھا حصہ چھوڑ دیا کرو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اندازہ کرنے والا اپنے عمل کے تخمینے کے باعث تیسرا حصہ چھوڑ دے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الزکاة 17 (643)، سنن النسائی/الزکاة 26 (2490)، (تحفة الأشراف:4647)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/3) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عبدالرحمن بن مسعود انصاری لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی جتنا اندازہ لگایا جائے اس میں سے ایک تہائی حصہ چھوڑ دیا جائے، اس کی زکاۃ نہ لی جائے کیوں کہ تخمینے میں کمی بیشی کا احتمال ہے، اسی طرح پھل تلف بھی ہو جاتے ہیں اور کچھ کو جانور کھا جاتے ہیں، ایک تہائی چھوڑ دینے سے مالک کے ان نقصانات کی تلافی اور بھر پائی ہو جاتی ہے، اس پر اکثر علماء کا عمل ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1805)
أخرجه الترمذي (643 وسنده حسن) والنساني (2493 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (2319، 2320 وسندھما حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں