سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب عَطِيَّةِ مَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ
باب: جو شخص اللہ کے نام پر مانگے اسے دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1672
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو، جو اللہ کے نام پر سوال کرے اسے دو، جو تمہیں دعوت دے اسے قبول کرو، اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے تم اس کا بدلہ دو، اگر تم بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے حق میں اس وقت تک دعا کرتے رہو جب تک کہ تم یہ نہ سمجھ لو کہ تم اسے بدلہ دے چکے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1672]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ مانگے اس کو امان دو، اور جو شخص اللہ کے نام سے سوال کرے اس کو دو، اور جو تمہاری دعوت کرے اس کی دعوت قبول کرو، اور جو تمہارے ساتھ احسان کرے اس کا بدلہ دو، اگر بدلہ دینے کے لیے کوئی چیز نہ پاؤ تو اس کے حق میں دعا کرو یہاں تک کہ تم سمجھ لو کہ اس (کے احسان) کا بدلہ دے دیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1672]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 72 (2568)، (تحفة الأشراف: 7391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/68، 95، 99، 172) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2568) والحديث الآتي (5109)
الأعمش مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 67
إسناده ضعيف
نسائي (2568) والحديث الآتي (5109)
الأعمش مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 67