🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

53. شِكَايَةُ الْجَمَلِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
نبی ﷺ کے پاس اونٹ کی شکایت کا واقعہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2516
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا مَهْدي بن ميمون، حدثنا محمد بن عبد الله ابن أبي يعقوب، عن الحسن بن سعد مولى الحسين (1) بن علي، عن عبد الله بن جعفر، قال: أردَفَني رسولُ الله ﷺ ذات يوم خلفه، فأسرَّ إليَّ حديثًا لا أحدِّث به أحدًا من الناس. قال: وكان أحبُّ ما استَتَر به رسول الله ﷺ لحاجتِه هدفًا أو حائشَ نخلٍ، فدخل حائطًا لرجل من الأنصار، فإذا جَمَلٌ فلمّا رأى النبيَّ ﷺ حنَّ إليه، وذَرَفَتْ عيناهُ، فأتاه النبيُّ ﷺ فَمَسَحَ ذِفْراته (1) فَسَكَن، فقال: مَن ربُّ هذا الجَمَل؟ لمن هذا الجَمَل؟ قال: فجاء فتًى من الأنصار فقال هو لي يا رسول الله، فقال:"ألا تتَّقي الله في هذه البَهيمةِ التي مَلّكَكَ الله إياها، فإنّه شَكَا إِليَّ أنك تُجِيعُه وتُدْئبُه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2485 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا اور مجھ سے چپکے سے ایک ایسی بات فرمائی جو میں کسی کو نہیں بتاؤں گا، راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفعِ حاجت کے لیے کسی اونچی جگہ یا کھجوروں کے جھنڈ کے پیچھے چھپنا زیادہ پسند فرماتے تھے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک شخص کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اونٹ موجود تھا، جب اونٹ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ بلبلانے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور اس کے سر کے پچھلے حصے پر ہاتھ پھیرا تو وہ پرسکون ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ کس کا اونٹ ہے؟ انصار کا ایک نوجوان حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ میرا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بے زبان جانور کے معاملے میں اللہ سے نہیں ڈرتے جس کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے؟ اس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے بہت زیادہ کام لے کر اسے تھکاتے ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2516]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن مهران، وقد توبع. عبد الله بن جعفر: هو ابن أبي طالب.» [ترقيم الرساله 2516] [ترقيم الشركة 2499] [ترقيم العلميه 2485]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں