المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
63. سَبَبُ نُزُولِ " وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ "
یتیم کے مال کے قریب نہ جانے کی آیت کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 2530
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا إبراهيم بن موسى ويحيى بن المغيرة، قالا حدثنا جَرير عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: لمّا أنزل الله ﷿ ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [الأنعام: 152] ، ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا﴾ إلى قوله: ﴿سَعِيرًا﴾ [النساء: 9] ، قال: انطَلَق مَن كان عندَه يتيمٌ فعَزَلَ طعامَه من طعامِه، وشَرابَه من شرابِه، يَفصِلُ الشيءَ من طعامه فيُحبَس له حتى يأكُلَه، أو يَفْسُدَ فيُرمَى به، فاشتدَّ ذلك عليهم، فذَكَروا ذلك لرسولِ الله ﷺ، فأنزل الله ﷿: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ﴾ إلى ﴿عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ [البقرة:220] ، فخَلَطُوا طعامَهم بطعامِهم، وشرابَهم بشرابِهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وإنما خرَّجه أئمتنا في الرُّخصة في المُناهَدة (2) في الغزو. وشاهدُه المفسَّر حديثُ وحشيّ بن حَرْب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2499 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وإنما خرَّجه أئمتنا في الرُّخصة في المُناهَدة (2) في الغزو. وشاهدُه المفسَّر حديثُ وحشيّ بن حَرْب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2499 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ ”اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو“ [سورة الأنعام: 152] اور ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا﴾ ”بے شک وہ لوگ جو یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھاتے ہیں (وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں)“ [سورة النساء: 10] ، تو جس کسی کے پاس یتیم ہوتا وہ اس کا کھانا اپنے کھانے سے اور اس کا پینا اپنے پینے سے بالکل الگ کر دیتا، وہ یتیم کے کھانے میں سے کچھ بچا کر رکھ دیتے اور وہ تب تک پڑا رہتا جب تک وہ اسے کھا نہ لیتا یا وہ خراب ہو جاتا تو اسے پھینک دیا جاتا، یہ صورتحال ان (صحابہ) پر بڑی کٹھن ثابت ہوئی، تو انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، جس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاصٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ﴾ ”اور وہ آپ سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، فرما دیجیے کہ ان کی (مالی) اصلاح کرنا ہی بہتر ہے اور اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی ہی ہیں“ [سورة البقرة: 220] ، اس کے بعد انہوں نے اپنا کھانا پینا ان کے ساتھ ملا لیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، ہمارے ائمہ نے اسے غزوے کے دوران مشترکہ طور پر خرچ کرنے یعنی «المُناهَدة» کی رخصت کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2530]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، ہمارے ائمہ نے اسے غزوے کے دوران مشترکہ طور پر خرچ کرنے یعنی «المُناهَدة» کی رخصت کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2530]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن عطاء بن السائب اختلط، وجرير -وهو ابن عبد الحميد- ممّن سمع منه بعد اختلاطه، وقد تابعه جماعة لم يتميز سماع أحدهم من عطاء بن السائب، أكان قبل الاختلاط أم بعده وخالفهم حماد بن سلمة، وهو ممّن جزم غيرُ واحدٍ من الأئمة بسماعه من ...» [ترقيم الرساله 2530] [ترقيم الشركة 2513] [ترقيم العلميه 2499]
الحكم على الحديث: حديث حسن