🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

48. باب اسْتِلاَمِ الأَرْكَانِ
باب: ارکان کعبہ کے استلام (چھونے اور چومنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1874
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنْ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کے کسی رکن کو چھوتے نہیں دیکھا سوائے حجر اسود اور رکن یمانی کے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1874]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے صرف دو یمانی ارکان ہی کو ہاتھ لگاتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1874]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحج 57 (1606)، 59 (1611)، صحیح مسلم/الحج 40 (1268)، سنن النسائی/الحج 157 (2952)، (تحفة الأشراف: 6906، 6988)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 27 (2946)، مسند احمد (2/86، 89، 114، 115، 120) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے رکن یمانی کے سلسلے میں یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے ہاتھ سے چھوتے تھے، اس کا چومنا یا اس کی طرف چھڑی یا ہاتھ سے اشارہ کرنا ثابت نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1609) صحيح مسلم (1267)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1875
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّهُ أُخْبِرَ بِقَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، إِنَّ الْحِجْرَ بَعْضُهُ مِنْ الْبَيْتِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّ عَائِشَةَ إِنْ كَانَتْ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي لَأَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتْرُكِ اسْتِلَامَهُمَا إِلَّا أَنَّهُمَا لَيْسَا عَلَى قَوَاعِدِ الْبَيْتِ، وَلَا طَافَ النَّاسُ وَرَاءَ الْحِجْرِ إِلَّا لِذَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول معلوم ہوا کہ حطیم کا ایک حصہ بیت اللہ میں شامل ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کی قسم! میرا گمان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو گا، میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (رکن عراقی اور رکن شامی) کا استلام بھی اسی لیے چھوڑا ہو گا کہ یہ بیت اللہ کی اصلی بنیادوں پر نہ تھے اور اسی وجہ سے لوگ حطیم ۱؎ کے پیچھے سے طواف کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1875]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان بتایا گیا کہ «الْحِجْرِ» (حاء کے کسرہ کے ساتھ، یعنی حطیم) کا کچھ حصہ بیت اللہ میں سے ہے، تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! میرا خیال ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اگر یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان (شامی) ارکان کا استلام (مس کرنا) صرف اسی لیے ترک فرمایا تھا کہ یہ بیت اللہ کی اصل بنیادوں پر نہیں ہیں۔ اور لوگ بھی «الْحِجْرِ» (حطیم) کے باہر سے اسی بنا پر طواف کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1875]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6958)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 59 (1608)، صحیح مسلم/الحج 40 (1335)، سنن النسائی/الحج 156 (2951)، سنن ابن ماجہ/المناسک 27 (2946)، مسند احمد (2/86، 114، 115)، سنن الدارمی/المناسک 25 (1880) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: چونکہ حطیم (کعبے کا ایک طرف چھوٹا ہوا حصہ ہے جو گول دائرے میں دیوار سے گھیر دیا گیا ہے) بھی بیت اللہ کا ایک حصہ ہے، اس لئے طواف اس کے باہر سے کرنا چاہئے، اگر کوئی طواف میں حطیم کو چھوڑ دے تو طواف درست نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله ولا طاف الناس
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أصله متفق عليه انظر صحيح البخاري (4484) وصحيح مسلم (1333)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1876
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ أَنْ يَسْتَلِمَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَالْحَجَرَ فِي كُلِّ طَوْفَةٍ"، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کسی بھی چکر میں ترک نہیں کرتے تھے، راوی کہتے ہیں اور عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1876]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طواف کے کسی چکر میں بھی رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام (یعنی اسے مس کرنا) نہ چھوڑتے تھے۔ (نافع نے) کہا: اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1876]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ الحج 156 (2950)، (تحفة الأشراف: 7761) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (2950 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں