المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
268. ذِكْرُ سَعَةِ جَهَنَّمَ وَجِسْرِهَا
جہنم کی وسعت اور اس کے پل کا بیان
حدیث نمبر: 3672
أخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، حدثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عَنبسةُ بن سعيد، عن حبيب بن أبي عَمْرة، عن مجاهد قال: قال لي عبد الله بن عبّاس: أتدري ما سَعَةُ جهنَّمَ؟ قلت: لا، قال: أجلْ والله ما تدري، إنَّ بين شَحْمةِ أُذنِ أحدِهم وبين عاتِقِه مَسِيرةَ سبعين خريفًا، أوديةَ القَيْح والدَّم، قلت له: أنهارٌ؟ قال: لا بل أوديةٌ. ثم قال: أتدري ما سَعَةُ جهنَّمَ؟ قلت: لا، قال: أجلْ والله ما تدري، حدثتني عائشةُ: أنها سألَتْ رسول الله ﷺ عن قوله ﷿: ﴿وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ﴾ [الزمر: 67] ، قلت: فأين الناسُ يومئذٍ يا رسولَ الله؟ قال:"على جِسْرِ جهنَّمَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3630 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3630 - صحيح
مجاہد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم تم نہیں جانتے؛ بے شک ان (جہنمیوں) میں سے کسی کے کان کی لو اور اس کے کندھے کے درمیان ستر سال کی مسافت کا فاصلہ ہے، جس میں پیپ اور خون کی وادیاں ہیں، میں نے پوچھا: کیا وہ نہریں ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں بلکہ وادیاں ہیں۔ پھر انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم تم نہیں جانتے؛ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا: ﴿وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ﴾ ”اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔“ [سورة الزمر: 67] میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کے پل (صراط) پر۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3672]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3672]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.» [ترقيم الرساله 3672] [ترقيم الشركة 3651] [ترقيم العلميه 3630]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح