سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
74. باب مَا يَذْكُرُ الإِمَامُ فِي خُطْبَتِهِ بِمِنًى
باب: منیٰ کے خطبہ میں امام کیا بیان کرے؟
حدیث نمبر: 1957
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ:" خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِمِنًى فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُنَا حَتَّى كُنَّا نَسْمَعُ مَا يَقُولُ وَنَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا، فَطَفِقَ يُعَلِّمُهُمْ مَنَاسِكَهُمْ حَتَّى بَلَغَ الْجِمَارَ فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: بِحَصَى الْخَذْفِ، ثُمَّ أَمَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَنَزَلُوا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ وَأَمَرَ الْأَنْصَارَ فَنَزَلُوا مِنْ وَرَاءِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ نَزَلَ النَّاسَ بَعْدَ ذَلِكَ".
عبدالرحمٰن بن معاذ تمیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے کان کھول دئیے گئے آپ جو بھی فرماتے تھے ہم اسے سن لیتے تھے، ہم اپنے ٹھکانوں میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ارکان حج سکھانا شروع کئے یہاں تک کہ جب آپ جمرات تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو رکھ کر اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگلیوں کے درمیان آ سکتی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کو حکم دیا کہ وہ مسجد کے اگلے حصہ میں اتریں اور انصار کو حکم دیا کہ وہ لوگ مسجد کے پیچھے اتریں اس کے بعد سب لوگ اترے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1957]
سیدنا عبدالرحمٰن بن معاذ تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا جبکہ ہم منیٰ میں تھے۔ پس (اللہ تبارک و تعالیٰ نے) ہمارے کان کھول دیے، ہم اپنے اپنے پڑاؤ پر تھے اور وہ سب کچھ سن رہے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے۔ آپ ہمیں اعمالِ حج کی تعلیم فرما رہے تھے حتیٰ کہ جمرات تک پہنچ گئے، تو آپ نے اپنی شہادت کی انگلیاں (اپنے کانوں میں) رکھیں اور فرمایا: ”چھوٹی چھوٹی کنکریاں مارو۔“ آپ نے مہاجرین کو حکم دیا تو وہ مسجد (خیف) کے آگے کی طرف اترے اور انصار کو حکم دیا تو وہ مسجد سے پیچھے کی طرف اترے۔ پھر دوسرے لوگ ان کے بعد اترے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1957]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الحج 189(2999)، (تحفة الأشراف: 9734)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/61)، سنن الدارمی/المناسک 59 (1393) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه النسائي (2999 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (1951)
أخرجه النسائي (2999 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (1951)