سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
75. باب يَبِيتُ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى
باب: منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1958
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي حَرِيزٌ، أَوْ أَبُو حَرِيزٍ الشَّكّ مِنْ يَحْيَى، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ فَرُّوخٍ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ:" إِنَّا نَتَبَايَعُ بِأَمْوَالِ النَّاسِ فَيَأْتِي أَحَدُنَا مَكَّةَ فَيَبِيتُ عَلَى الْمَالِ؟ فَقَالَ: أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاتَ بِمِنًى وَظَلَّ".
حریز یا ابوحریز بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن فروخ کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم لوگوں کا مال بیچتے ہیں تو کیا ہم میں سے کوئی منیٰ کی راتوں میں مکہ میں جا کر مال کے پاس رہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو رات اور دن دونوں منیٰ میں رہا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1958]
عبدالرحمٰن بن فروخ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ”ہم لوگوں کے ساتھ خرید و فروخت کرتے ہیں، تو ہم میں سے کوئی مکہ بھی آ جاتا ہے اور اپنے مال کے ساتھ رات گزارتا ہے،“ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو راتیں منیٰ میں گزاری تھیں اور دن بھی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1958]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6687) (ضعیف)» (اس کے راوی حریز، یا ابوحریز حجازی مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس لئے مکہ میں رات گزارنی خلاف سنت اور ناجائز ہے، بعض علماء کے یہاں صرف شدید ضرورت کے وقت اس کی اجازت ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حريز أو أبو حريز : مجهول (تق : 1185)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
إسناده ضعيف
حريز أو أبو حريز : مجهول (تق : 1185)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
حدیث نمبر: 1959
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاجیوں کو پانی پلانے کی وجہ سے منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1959]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تھی کہ ”لوگوں کو پانی پلانے کی غرض سے منیٰ کی راتیں مکہ میں گزار لیں“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث ابن نمیر أخرجہ صحیح البخاری/الحج 133 (1745)، صحیح مسلم/الحج 60 (1315)، سنن ابن ماجہ/المناسک 80 (3065)، مسند احمد (2/22)، وحدیث أبو أسامة أخرجہ: صحیح البخاری/ الحج 133 (1745 تعلیقاً)، صحیح مسلم/الحج 60 (1315)، سنن الدارمی/المناسک 91 (1986)، (تحفة الأشراف: 7824) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1745) صحيح مسلم (1315)