سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ
باب: دودھ پلانے سے وہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2055
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ پلانے سے وہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو پیدائش سے حرام ہوتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2055]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت کی بنا پر وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو ولادت کے تعلق سے حرام ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الرضاع 2 (1147)، سنن النسائی/النکاح 49 (3302)، (تحفة الأشراف: 16344)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات 7 (2646)، فرض الخمس 4 (3105)، تفسیر سورة السجدة 9 (4792)، النکاح 22 (5103)، 117 (5239)، الأدب 93 (6156)، صحیح مسلم/الرضاع 2 (1444)، سنن ابن ماجہ/النکاح 34 (1937)، موطا امام مالک/الرضاع 3 (15)، مسند احمد (6/44، 51، 66، 72، 102)، سنن الدارمی/النکاح 48 (2295) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2056
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي؟ قَالَ:" فَأَفْعَلُ مَاذَا؟" قَالَتْ: فَتَنْكِحُهَا، قَالَ:" أُخْتَكِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟" قَالَتْ: لَسْتُ بِمُخْلِيَةٍ بِكَ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، قَالَ:" فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي"، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ أَوْ ذُرَّةَ شَكَّ زُهَيْرٌ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ:" بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ"، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" أَمَا وَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری بہن (عزہ) میں رغبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں کیا کروں“، انہوں نے کہا: آپ ان سے نکاح کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری بہن سے؟“ انہوں نے کہا، ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم یہ (سوکن) پسند کرو گی؟“ انہوں نے کہا: میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں جتنی عورتیں میرے ساتھ خیر میں شریک ہیں ان سب میں اپنی بہن کا ہونا مجھے زیادہ پسند ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے“ کہا: اللہ کی قسم مجھے تو بتایا گیا ہے کہ آپ درہ یا ذرہ بنت ابی سلمہ (یہ شک زہیر کو ہوا ہے) کو پیغام دے رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلمہ کی بیٹی کو؟“ کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم (وہ تو میری ربیبہ ہے) اگر ربیبہ نہ بھی ہوتی تو وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی کیونکہ وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور اس کے باپ کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے لہٰذا تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ پر (نکاح کے لیے) پیش نہ کیا کرو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2056]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ میری بہن میں راغب ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا کروں؟“ کہنے لگیں کہ ”آپ اس سے نکاح کر لیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری بہن سے؟“ بولیں: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ پسند ہے؟“ کہنے لگیں: ”میں کوئی آپ کے پاس اکیلی تو نہیں ہوں۔ اور اس شراکت میں مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میری بہن اس خیر میں میری حصہ دار بنے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔“ وہ کہنے لگیں: ”قسم اللہ کی! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے درہ یا ذرہ (حدیث کے راوی) زہیر کو شک ہے دختر ابو سلمہ کے لیے پیغام بھجوایا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلمہ کی بیٹی کے لیے؟“ کہنے لگیں: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! وہ اگر میری ربیبہ نہ بھی ہوتی جو کہ میری پرورش میں ہے، تو بھی میرے لیے حلال نہ ہو سکتی تھی کیونکہ وہ میرے دودھ کے بھائی کی بیٹی (رضاعی بھتیجی) ہے۔ مجھے اور اس کے والد (ابو سلمہ) کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا۔ سو مجھے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی پیش کش مت کرو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18267)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 20 (5101)، 25 (5106)، 26 (5107)، 35 (5123)، النفقات 16 (5372)، صحیح مسلم/الرضاع 4 (1449)، سنن النسائی/النکاح 44 (3386)، سنن ابن ماجہ/النکاح 34 (1939)، مسند احمد (6/291، 309، 428) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
رواه البخاري (5106) ومسلم (1449)
رواه البخاري (5106) ومسلم (1449)