سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب فِي لَبَنِ الْفَحْلِ
باب: مرد سے دودھ کا رشتہ۔
حدیث نمبر: 2057
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ، قَالَ: تَسْتَتِرِينَ مِنِّي وَأَنَا عَمُّكِ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: مِنْ أَيْنَ؟ قَالَ: أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي قَالَتْ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس افلح بن ابوقعیس آئے تو میں نے پردہ کر لیا، انہوں نے کہا: مجھ سے پردہ کر رہی ہو، میں تو تمہارا چچا ہوں؟ میں نے کہا: چچا کس طرح سے؟ انہوں نے کہا کہ تمہیں میرے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے نہ کہ مرد نے، پھر میرے یہاں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے سارا واقعہ آپ سے بیان کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہارے چچا ہیں، وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2057]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ افلح بن ابی القعیس میرے ہاں آئے تو میں نے ان سے پردہ کیا۔ انہوں نے کہا: ”مجھ سے پردہ کرتی ہو، حالانکہ میں تمہارا چچا ہوں؟“ کہتی ہیں، میں نے کہا: ”کہاں سے؟“ انہوں نے کہا: ”تم کو میری بھاوج نے دودھ پلایا ہے۔“ کہنے لگیں: ”مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے نہیں پلایا۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے، تمہارے پاس آ سکتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16373، 16917)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات 7 (2644)، صحیح مسلم/الرضاع 2 (1445)، سنن النسائی/النکاح 49 (3303)، موطا امام مالک/ الرضاع 1(3)، مسند احمد (6/194، 271) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5239) صحيح مسلم (1445)