🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

313. ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - شَجَاعَةُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو سفیان بن الحارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5187
حدثنا محمد بن أحمد بن بُطّة، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: أبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب بن هاشِم، وكان أخا رسولِ الله ﷺ من الرَّضاعة وابن عَمِّه، أرضعَتْه حَليمةُ أيامًا، فكان يألَفُ رسولَ الله ﷺ، فلما بُعِث رسولُ الله ﷺ عاداه وهَجَاه وهَجَا أصحابَه، فمَكَثَ عشرين سنةً مُناصبًا لرسول الله ﷺ، لا يَتخلَّف عن موضعٍ تسير فيه قريش لقتالِ رسول الله ﷺ، فلما ذُكِر شُخُوص رسولِ الله ﷺ إلى مكةَ عامَ الفتحِ ألقى الله ﷿ في قلبِه الإسلامَ، فتلقّى رسولَ الله ﷺ قبل نُزولِه الأَبْواءَ، فأسلم هو وابنه جعفرٌ، وخرج مع رسول الله ﷺ فشَهِد فتحَ مكة وحُنينًا. قال أبو سفيان: فلما لَقِينا العدوَّ بحُنينٍ اقتحمْتُ عن فرسي وبيدي السيفُ صَلْتًا، واللهُ يعلمُ أني أريد الموتَ دونَه، وهو يَنظُر إليَّ، فقال العباسُ: يا رسولَ الله، هذا أخوك وابنُ عمّك أبو سفيان بن الحارث، فارْضَ عنه، قال:"قد فعلتُ يَغْفِرُ اللهُ له كلَّ عَداوةٍ عادَانِيها" ثم الْتفتَ إليَّ فقال:"أخي لَعَمْري"، فقبّلتُ رِجلَه في الرِّكاب (1) . قالوا: ومات أبو سفيان بن الحارث بالمدينة بعد أخيه نوفل بن الحارث بأربعةِ أشهرٍ إلَّا ثلاثةَ عشرَ ليلةً، ويقال: مات سنة عِشرين، وصلَّى عليه عمرُ بن الخطاب، وقُبر في رُكْن دار عَقِيل بن أبي طالب بالبَقيع، وهو الذي حفر قبرَ نفسِه قبل أن يموت بثلاثةِ أيامٍ (2) . قد ذكرتُ إسلامَ أبي سُفيان في فتح مكة فيما تَقدَّم (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5108 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن عمر کہتے ہیں کہ ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد تھے، انہیں سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے چند دن دودھ پلایا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مانوس تھے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ہجو کی، اور وہ بیس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت پر ڈٹے رہے، وہ قریش کے کسی ایسے معرکے سے پیچھے نہیں رہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے گیا ہو، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فتحِ مکہ کے لیے روانہ ہونے کا تذکرہ ہوا تو اللہ عزوجل نے ان کے دل میں اسلام ڈال دیا، چنانچہ وہ مقامِ ابواء پر پڑاؤ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور وہ اور ان کے بیٹے جعفر اسلام لے آئے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مکہ کی طرف) نکلے اور فتح مکہ اور غزوہ حنین میں شریک ہوئے، ابو سفیان کہتے ہیں: جب حنین کے دن ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو میں اپنے گھوڑے سے کود پڑا اور میرے ہاتھ میں بے نیام تلوار تھی، اللہ جانتا ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں) موت چاہتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھ رہے تھے، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپ کے بھائی اور چچا زاد ابو سفیان بن حارث ہیں، ان سے راضی ہو جائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایسا ہی کیا، اللہ ان کی وہ تمام دشمنیاں معاف فرمائے جو انہوں نے مجھ سے کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میری عمر کی قسم، یہ میرا بھائی ہے، تو میں نے رکاب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کو چوم لیا۔ راوی کہتے ہیں: ابو سفیان بن حارث کی وفات مدینہ منورہ میں ان کے بھائی نوفل بن حارث کے چار ماہ الا تیرہ دن بعد ہوئی، اور کہا جاتا ہے کہ ان کی وفات سنہ 20 ہجری میں ہوئی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں بقیع میں عقیل بن ابی طالب کے گھر کے کونے میں دفن کیا گیا، وہ وہی ہیں جنہوں نے اپنی وفات سے تین دن پہلے خود اپنی قبر کھودی تھی۔
میں نے فتح مکہ کے بیان میں ابو سفیان کے اسلام لانے کا تذکرہ پہلے بھی کر دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5187]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5187] [ترقيم الشركة 5142] [ترقيم العلميه 5108]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں