🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

38. باب فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ فَيَجِدُهَا حُبْلَى
باب: آدمی کسی عورت سے شادی کرے اور اسے حاملہ پائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2131
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ مِنْ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ اتَّفَقُوا، يُقَالُ لَهُ: بَصْرَةُ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً بِكْرًا فِي سِتْرِهَا، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَإِذَا هِيَ حُبْلَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَهَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَالْوَلَدُ عَبْدٌ لَكَ، فَإِذَا وَلَدَتْ، قَالَ الْحَسَنُ: فَاجْلِدْهَا، وقَالَ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ: فَاجْلِدُوهَا، أَوْ قَالَ: فَحُدُّوهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَرْسَلُوهُ كُلُّهُمْ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ بَصْرَةَ بْنَ أَكْثَمَ نَكَحَ امْرَأَةً، وَكُلُّهُمْ قَالَ فِي حَدِيثِهِ: جَعَلَ الْوَلَدَ عَبْدًا لَهُ.
بصرہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک کنواری پردہ نشین عورت سے نکاح کیا، میں اس کے پاس گیا، تو اسے حاملہ پایا تو اس کے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض تمہیں مہر ادا کرنا پڑے گا، اور (پیدا ہونے والا) بچہ تمہارا غلام ہو گا، اور جب وہ بچہ جن دے - (حسن کی روایت میں) تو تو اسے کوڑے لگا (واحد کے صیغہ کے ساتھ) اور ابن السری کی روایت میں تو تم اسے کوڑے لگاؤ (جمع کے صیغہ کے ساتھ)، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر حد جاری کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو قتادہ نے سعید بن زید سے انہوں نے ابن مسیب سے روایت کیا ہے نیز اسے یحییٰ ابن ابی کثیر نے یزید بن نعیم سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عطاء خراسانی نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے سبھی لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور یحییٰ ابن ابی کثیر کی روایت میں ہے کہ بصرہ بن اکثم نے ایک عورت سے نکاح کیا اور سبھی لوگوں کی روایت میں ہے: آپ نے لڑکے کو ان کا غلام بنا دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2131]
سیدنا بصرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ایک کنواری لڑکی سے شادی کی، جو کہ اپنے پردے میں تھی۔ میں اس پر داخل ہوا تو وہ حاملہ تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو حق مہر ملے گا بوجہ اس کے جو تو نے اس کی شرمگاہ کو حلال جانا اور بچہ تیرا غلام ہوگا، جب یہ بچہ جن لے۔ بالفاظِ حسن بن علی تو اسے درے لگا۔ اور بالفاظِ ابن ابی السری تم لوگ اس کو درے لگاؤ یا کہا اس کو حد لگاؤ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو قتادہ نے بواسطہ سعید بن یزید، ابن مسیب سے اور یحییٰ بن ابی کثیر نے بواسطہ یزید بن نعیم، سعید بن مسیب سے اور عطاء خراسانی نے سعید بن مسیب سے روایت کی اور سب نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل ہی روایت کیا ہے۔ یحییٰ بن ابی کثیر کی روایت میں ہے کہ بصرہ بن اکثم نے ایک عورت سے نکاح کیا اور تمام رواۃ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو اس کا غلام قرار دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2131]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2024 و 18756) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابن جریج مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جريج عنعن
وسمعه من إبراهيم بن أبي يحيي عن صفوان به كما حققه أبو حاتم وغيره و إبراهيم بن محمد بن أبي يحيي ھذا متروك (تقريب التهذيب: 241) و قال البيهقي : مختلف في ثقته ضعفه أكثر أهل العم بالحديث و طعنوا فيه…(السنن الكبري 249/1) و قال العيني : ضعفه الجمهور(عمدة القاري 82/11)
و قال ابن حجر : شيخ الشافعي،ضعفه الجمهور(طبقات المدلسين 5/129)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 81

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2132
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: بَصْرَةُ بْنُ أَكْثَمَ نَكَحَ امْرَأَةً، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، زَادَ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَتَمُّ.
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ بصرہ بن اکثم نامی ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر راوی نے اسی مفہوم کی روایت نقل کی لیکن اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کرا دی اور ابن جریج والی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2132]
یحییٰ بن ابی کثیر نے یزید بن نعیم سے، انہوں نے سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ ایک شخص نے، جسے بصرہ بن اکثم کہا جاتا تھا، ایک عورت سے نکاح کیا، اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا، اور اضافہ کیا کہ ان کے مابین تفریق کر دی۔ اور ابن جریج کی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2124، 18756) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی یزید بن نعیم لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف وحديث ابن جريج أتم
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،سعيد بن المسيب رحمه اللّٰه من كبار التابعين (انظر التقريب : 2396)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 81

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں