سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب في الرجل يتزوج المرأة فيجدها حبلى
باب: آدمی کسی عورت سے شادی کرے اور اسے حاملہ پائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 2132
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: بَصْرَةُ بْنُ أَكْثَمَ نَكَحَ امْرَأَةً، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، زَادَ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَتَمُّ.
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ بصرہ بن اکثم نامی ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر راوی نے اسی مفہوم کی روایت نقل کی لیکن اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کرا دی“ اور ابن جریج والی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2124، 18756) (ضعیف)» (اس کے راوی یزید بن نعیم لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف وحديث ابن جريج أتم
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،سعيد بن المسيب رحمه اللّٰه من كبار التابعين (انظر التقريب : 2396)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 81
إسناده ضعيف
السند مرسل،سعيد بن المسيب رحمه اللّٰه من كبار التابعين (انظر التقريب : 2396)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 81
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥يزيد بن نعيم الأسلمي يزيد بن نعيم الأسلمي ← سعيد بن المسيب القرشي | مقبول | |
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر يحيى بن أبي كثير الطائي ← يزيد بن نعيم الأسلمي | ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل | |
👤←👥علي بن المبارك الهنائي علي بن المبارك الهنائي ← يحيى بن أبي كثير الطائي | ثقة | |
👤←👥عثمان بن عمر العبدي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عدي عثمان بن عمر العبدي ← علي بن المبارك الهنائي | ثقة | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← عثمان بن عمر العبدي | ثقة ثبت |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2132 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2132
فوائد ومسائل:
یہ دونوں روایات مرسل ہیں، مرفوعا صحیح نہیں ہیں تاہم مسائل کا حل تقریبا یہی ہے۔
(الف) اس قسم کی صورت حال میں کہ انسان اپنی منکوحہ کو حاملہ پائے تو ان میں تفریق کرادی جائے گی اور شوہر نے اگراس سے مباشرت کر لی تو اس کی وجہ سے اسے حق مہر (یا مثل) دینا پڑے گا۔
(ب) اس عورت پر حد لازم آئے گی۔
(ج) ولد الزنا کو معروف معنی میں غلام (عبد) ہونے کا کسی فقیہ نے نہیں کہا۔
الا یہ اسےاس دور کی بات تسلیم کی جائے جبکہ غلامی کا دور باقی تھا، ہاں اس کے بچے کی حسن تعلیم وتربیت کی تاکید ہے اور وہ اپنے مربی کا احسان مند اور خد متگار ہو گا۔
(واللہ اعلم)
یہ دونوں روایات مرسل ہیں، مرفوعا صحیح نہیں ہیں تاہم مسائل کا حل تقریبا یہی ہے۔
(الف) اس قسم کی صورت حال میں کہ انسان اپنی منکوحہ کو حاملہ پائے تو ان میں تفریق کرادی جائے گی اور شوہر نے اگراس سے مباشرت کر لی تو اس کی وجہ سے اسے حق مہر (یا مثل) دینا پڑے گا۔
(ب) اس عورت پر حد لازم آئے گی۔
(ج) ولد الزنا کو معروف معنی میں غلام (عبد) ہونے کا کسی فقیہ نے نہیں کہا۔
الا یہ اسےاس دور کی بات تسلیم کی جائے جبکہ غلامی کا دور باقی تھا، ہاں اس کے بچے کی حسن تعلیم وتربیت کی تاکید ہے اور وہ اپنے مربی کا احسان مند اور خد متگار ہو گا۔
(واللہ اعلم)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2132]
يزيد بن نعيم الأسلمي ← سعيد بن المسيب القرشي