سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. باب فِي إِتْيَانِ الْحَائِضِ وَمُبَاشَرَتِهَا
باب: حائضہ عورت سے جماع اور اس سے مباشرت (بدن سے بدن ملا کر لیٹنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2165
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانَتْ إِذَا حَاضَتْ مِنْهُمُ امْرَأَةٌ أَخْرَجُوهَا مِنَ الْبَيْتِ وَلَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبَيْتِ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَاصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ النِّكَاحِ"، فَقَالَتْ الْيَهُودُ: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَ عَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا، أَفَلَا نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ؟ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا، فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں جب کوئی عورت حائضہ ہو جاتی تو اسے گھر سے نکال دیتے نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ ہی اسے گھر میں رکھتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں دریافت کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «يسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض» ”لوگ آپ سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں تو کہہ دیجئیے کہ وہ گندگی ہے لہٰذا تم حیض کی حالت میں عورتوں سے علیحدہ رہو“ (سورۃ البقرہ: ۲۲۲)، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”انہیں گھروں میں رکھو اور جماع کے علاوہ ہر کام کرو“، اس پر یہودیوں نے کہا کہ: یہ شخص تو ہمارے ہر کام کی مخالفت کرتا ہے، چنانچہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہودی ایسا ایسا کہہ رہے ہیں، تو کیا ہم (ان کی مخالفت میں) عورتوں سے حالت حیض میں جماع نہ کرنے لگیں؟ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا، یہاں تک کہ ہمیں اپنے اوپر آپ کی ناراضگی کا گمان ہونے لگا چنانچہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکل آئے، اسی اثناء میں آپ کے پاس دودھ کا ہدیہ آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوا بھیجا جس سے ہمیں لگا کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2165]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودی لوگ جب ان میں کوئی عورت حیض سے ہوتی تو اس کو گھر سے نکال دیتے تھے۔ اس کے ساتھ کھاتے نہ پیتے اور نہ ایک گھر میں اکٹھے رہتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ [سورة البقرة: 222] ”لوگ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دیجیے کہ وہ گندگی ہے، سو حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو۔۔۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے ساتھ گھروں میں اکٹھے رہو اور ہر فعل کر سکتے ہو سوائے نکاح (جنسی عمل) کے۔“ یہودی کہنے لگے: ”یہ آدمی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے کسی کام کو نہیں چھوڑتا مگر اس کی مخالفت ہی کرتا ہے۔“ سیدنا اسید بن حضیر اور سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! یہودی اس اس طرح کہتے ہیں، تو کیا ہم حیض کے دنوں میں بھی عورتوں سے مجامعت نہ کر لیا کریں؟“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک بدل گیا۔ حتیٰ کہ ہمیں یقین ہو گیا کہ آپ ان دونوں سے واقعتاً ناراض ہو گئے ہیں، چنانچہ وہ (آپ کی مجلس سے) نکل آئے۔ (ان کے جانے کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ہدیہ آ گیا۔ تو آپ نے ان کو پیچھے سے بلوایا، تب ہمیں تسلی ہوئی کہ آپ ان پر (دلی طور سے) ناراض نہیں ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرحدیث رقم (258)، (تحفة الأشراف: 308) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (302)
حدیث نمبر: 2166
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ خِلَاسًا الْهَجَرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ:" كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ، فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ، وَإِنْ أَصَابَ، تَعْنِي ثَوْبَهُ، مِنْهُ شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ وَصَلَّى فِيهِ".
خلاس بن عمرو ہجری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے اور میں حالت حیض میں ہوتی، اگر کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لگ جاتا تو صرف اس جگہ کو دھو لیتے اس سے آگے نہ بڑھتے، اور کہیں کپڑے میں لگ جاتا تو صرف اتنی ہی جگہ دھو لیتے، اس سے آگے نہ بڑھتے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2166]
جناب خلاس ہجری کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیان کرتے ہوئے سنا: ”میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی چادر میں سو جاتے تھے حالانکہ میں ایام میں ہوتی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے کچھ (خون وغیرہ) لگ جاتا تو اس جگہ کو دھو لیتے اور اس جگہ سے مزید آگے نہ دھوتے، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کو کچھ لگ جاتا تو اسی جگہ کو دھو لیتے اور اس سے تجاوز نہ کرتے اور اسی میں نماز پڑھ لیتے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (269)، (تحفة الأشراف: 16067) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (269)
انظر الحديث السابق (269)
حدیث نمبر: 2167
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، أَمَرَهَا أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا".
عبداللہ بن شداد اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی سے حالت حیض میں مباشرت کرنے کا ارادہ فرماتے تو اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2167]
ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی کسی بیوی کے ساتھ لیٹنا چاہتے اور وہ حیض سے ہوتی، تو اسے کہتے کہ ”اپنی تہ بند خوب اچھی طرح باندھ لے“، پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض (303)، صحیح مسلم/الحیض 1 (294)، (تحفة الأشراف: 18061)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/335، 336) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (303) صحيح مسلم (293)