المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
835. سِتُّ عَلَامَاتٍ لِلْقِيَامَةِ
قیامت کی چھ نشانیاں
حدیث نمبر: 6460
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حدثنا هلال ابن العلاء الرَّقّي، حدثنا أبي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، حدثني إسحاق بن راشد، عن الزُّهْري، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطَّاب، عن عوف بن مالك الأشجعيّ قال: دخلتُ على رسولَ الله ﷺ في غزوة تَبُوك في آخر السَّحَر وهو في فُسْطاطِه، فسلَّمتُ عليه وقلت: أَدخُلُ يا رسول الله؟ فقال:"ادخُلْ"، فقلت: كُلِّي؟ فقال:"كُلُّك"، ثم قال ﷺ:"ستٌّ قبل الساعة: أَوَّلَهُنَّ موتُ نبيِّكم، قل: إحْدَى قلت: إحدى"والثانيةُ فتحُ بيتِ المقدِس، قل اثنَينْ" قلت: اثنين، ثم قال:"والثالثة مُوتَانٌ يأخذكم كقُعَاصِ الغَنَم، قل: ثلاثًا" قلت: ثلاثًا، قال:"والرابعةُ يَفِيضُ فيكم المالُ حتى إنَّ الرجلَ لَيُعطَى مئةَ دينار فيَظَلُّ يَتَسَخَّطُها، قل: أربعًا" قلت: أربعًا،"والخامسةُ فتنةٌ تكون فيكم، قَلَّما يبقى فيكم بيتُ وَبَرٍ ولا مَدَرٍ إِلَّا دَخلَتْه، قل: خمسًا" قلت: خمسًا،"والسادسة هُدْنةٌ تكون بينكم وبين بني الأصفرِ، فيَجتمِعون لكم حَمْلَ امرأةٍ، ثم يَغدِرون بكم فيُقبِلون في ثمانين رايةً، كلَّ رايةٍ اثنا عشرَ ألفاً" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6324 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6324 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اس وقت سحری کا آخری وقت تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تشریف فرما تھے، میں نے سلام کیا اور پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں اندر آ جاؤں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندر آ جاؤ،“ میں نے پوچھا: ”کیا میں پورا (اندر) آ جاؤں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں پورے آ جاؤ،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ظاہر ہوں گی: پہلی تمہارے نبی کی وفات، کہو ایک“ میں نے کہا: ایک، ”دوسری بیت المقدس کی فتح، کہو دو“ میں نے کہا: دو، ”تیسری ایسی طاعون کی بیماری جو تمہیں اس طرح اچانک ہلاک کرے گی جیسے بھیڑوں کو حلق کی بیماری (قعاص) ہلاک کر دیتی ہے، کہو تین“ میں نے کہا: تین، ”چوتھی یہ کہ تم میں مال کی اتنی فراوانی ہو جائے گی کہ ایک شخص کو سو دینار بھی دیے جائیں گے تو وہ اس پر ناراض ہی رہے گا (یعنی اسے کم سمجھے گا)، کہو چار“ میں نے کہا: چار، ”پانچویں ایسا فتنہ جو تم میں برپا ہوگا اور عرب کا کوئی خیمہ یا پکا گھر ایسا نہیں ہوگا جہاں وہ داخل نہ ہو جائے، کہو پانچ“ میں نے کہا: پانچ، ”اور چھٹی ایک صلح جو تمہارے اور بنو اصفر (رومیوں) کے درمیان ہوگی، وہ تمہارے خلاف نو ماہ تک لشکر جمع کریں گے، پھر وہ تم سے غداری کریں گے اور اسیّ جھنڈوں کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار سپاہی ہوں گے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6460]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد فيه لين من أجل العلاء بن هلال والد هلال، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 6460] [ترقيم الشركة 6385] [ترقيم العلميه 6324]
الحكم على الحديث: حديث صحيح