سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. باب نَسْخِ مَتَاعِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا بِمَا فُرِضَ لَهَا مِنَ الْمِيرَاثِ
باب: جس عورت کا شوہر مر جائے اس کو آیت میراث کے حکم سے ایک سال کا خرچ دینا منسوخ ہے۔
حدیث نمبر: 2298
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،"وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240، فَنُسِخَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْمِيرَاثِ بِمَا فُرَضَ لَهُنَّ مِنَ الرُّبُعِ وَالثُّمُنِ، وَنُسِخَ أَجَلُ الْحَوْلِ بِأَنْ جُعِلَ أَجَلُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کا فرمان «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» ”اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائدہ اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے“ (سورۃ البقرہ: ۲۴۰) میراث کی آیت نازل ہو جانے کے بعد منسوخ ہو گیا کیونکہ اس میں ان کے لیے چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کر دیا گیا ہے اسی طرح ایک سال تک نہ نکلنے کا حکم چار مہینے دس دن کی عدت کا حکم آ جانے کے بعد منسوخ ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2298]
آیت کریمہ ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ [سورة البقرة: 240] ”اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور اپنے پیچھے اپنی بیویاں چھوڑ جائیں تو (انہیں چاہیے کہ) اپنی بیویوں کے لیے وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک انہیں خرچ دینا ہے اور گھر سے نہیں نکالنا ہے۔“ کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”یہ حکم آیتِ میراث سے منسوخ ہے اور انہیں چوتھا یا آٹھواں حصہ ملے گا، اور ایک سال کی مدت بھی منسوخ ہے اور اب اس کی مدت (عدت صرف) چار ماہ دس دن ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2298]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطلاق 69 (3573)، (تحفة الأشراف: 6250، 19114)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التفسیر 41 (4531)، الطلاق 50(5344) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (3573 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (3573 وسنده حسن)