سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب الْغِيبَةِ لِلصَّائِمِ
باب: روزے میں غیبت کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2362
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ". وقَالَ أَحْمَدُ: فَهِمْتُ إِسْنَادَهُ مِنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَأَفْهَمَنِي الْحَدِيثَ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ، أُرَاهُ ابْنَ أَخِيهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (روزے کی حالت میں) جھوٹ بولنا، اور برے عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2362]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹ اور بیہودہ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانے پینے کے چھوڑ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔“ احمد بن یونس نے کہا: ”مجھے اس کی سند ابن ابی ذئب نے اور یہ حدیث اس آدمی نے سمجھائی جو اس کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا، جو غالباً اس کا بھائی تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 8 (1903)، سنن الترمذی/الصوم 16 (707)، سنن ابن ماجہ/الصیام 21 (1689)، (تحفة الأشراف: 14321)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الصوم (3246)، مسند احمد (2/452، 505) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1903)
حدیث نمبر: 2363
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الصِّيَامُ جُنَّةٌ، إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ (برائیوں سے بچنے کے لیے) ڈھال ہے، جب تم میں کوئی صائم (روزے سے ہو) تو فحش باتیں نہ کرے، اور نہ نادانی کرے، اگر کوئی آدمی اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2363]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو کسی قسم کی فحش بات یا جہالت کا کام نہ کرے۔ اگر کوئی دوسرا اس سے جھگڑے یا گالی گلوچ دے تو اسے چاہیے کہ کہہ دے: ”میں روزے سے ہوں، میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔““ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 2 (1894)، 9 (1904)، سنن النسائی/الصیام 23 (2218)، سنن ابن ماجہ/الصیام 21 (1691)، (تحفة الأشراف: 13817)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصیام 30 (1151)، سنن الترمذی/الصوم 55 (764)، موطا امام مالک/الصیام 22 (57)، مسند احمد (2/232)، سنن الدارمی/الصوم 50 (1812) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1894) صحيح مسلم (1151)