🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَصَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهِنَّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ
جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی تنگی و سختی پر صبر کرے، اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7533
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا محمد بن سِنان القزَّاز، حدّثنا حماد بن مَسْعَدة، عن ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبير، عن عمر بن نَبْهان، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن كُنَّ له ثلاث بناتٍ، فَصَبَرَ عَلى لأَوائِهِنَّ وَسَرّائهنَّ، أدخَلَه الله الجنة برحمته إياهنَّ" قال: فقال رجلٌ: وابنتانِ يا رسول الله؟ قال:"وابنَتانِ" قال رجل: يا رسول الله، وواحدةٌ؟ قال:"وواحدة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7346 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی سختی و نرمی (تنگی و آسانی) پر صبر کرے، تو اللہ تعالیٰ ان (بیٹیوں) پر اپنی رحمت کی وجہ سے اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور اگر دو ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور دو (بیٹیوں پر بھی)۔“ پھر ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور اگر ایک ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور ایک (پر بھی)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7533]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لاضطرابه ولجهالة عمر بن نبهان، ومحمد بن سنان القزاز» [ترقيم الرساله 7533] [ترقيم الشركة 7442] [ترقيم العلميه 7346]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاضطرابه ولجهالة عمر بن نبهان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7534
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدّثنا مُسدَّد، حدّثنا المُعتمِر، قال: سمعتُ حميدًا يُحدِّث عن أنس قال: مرَّ النبيُّ ﷺ بأُناسٍ من أصحابه وصبيٌّ بين ظهرانَي الطريق، فلما رأت أُمُّه الدوابَّ، خَشِيَتْ على ابنها أن يُوطأَ، فسَعَتْ والهةً، فقالت: ابني ابني، فاحتمَلَتْ ابنَها، فقال القومُ: يا نبيَّ الله، ما كانت هذه لِتُلقيَ ابنها في النار، فقال رسول الله ﷺ:"لا واللهِ، لا يُلقي الله حبيبه في النَّار"، قال: فخَصَمَهم نبيُّ الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7347 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے، وہاں راستے میں ایک بچہ تھا، جب اس کی ماں نے جانوروں (کے غول) کو دیکھا تو اسے اپنے بیٹے کے پاؤں تلے کچلے جانے کا خوف ہوا، وہ دیوانہ وار گھبرا کر دوڑی اور پکارنے لگی: ہائے میرا بچہ، ہائے میرا بچہ! پھر اس نے اپنے بیٹے کو اٹھا لیا، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! یہ ماں ایسی نہیں ہے کہ اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اللہ کی قسم! اللہ بھی اپنے محبوب کو آگ میں نہیں پھینکے گا۔“ راوی کہتے ہیں: پس اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کی بات سے اپنی بات ثابت کر کے) ان پر دلیل قائم کر دی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7534]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7534] [ترقيم الشركة 7443] [ترقيم العلميه 7347]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7535
حدّثنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حدّثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَون، أخبرنا أبو مالك الأشجعيّ، عن زياد بن حُدَير، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"من وُلِدَت له أنثى فلم يَئِدْها، ولم يُهِنْها، ولم يُؤثِرْ ولدَه - يعني الذَّكر - عليها، أدخله الله بها الجنَّةَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7348 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے (زمانہ جاہلیت کی طرح) زندہ درگور نہ کرے، نہ اسے ذلیل سمجھے اور نہ ہی اپنے بیٹے کو اس پر ترجیح دے، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7535]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، ابن حدير مترجم في باب من نسبه إلى أبيه من "التهذيب" وفروعه، ولم يذكروا له اسمًا، وقد سمّاه الحاكم في هذه الرواية زيادًا، وابن حدير غير المسمى لم يرو عنه غير أبي مالك الأشجعي سعدِ بن طارق، ولم يؤثر توثيقه عن أحد، لذا قال المنذري في "الترغيب": غير ...» [ترقيم الرساله 7535] [ترقيم الشركة 7444] [ترقيم العلميه 7348]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7536
أخبرنا أبو الحسن محمد بن علي بن بكر العدل ابن ابنةِ إبراهيم بن هانئ، حدّثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدّثنا مسلم بن إبراهيم، حدّثنا عُبيد الرحمن بن فَضَالة، حدّثنا بكر بن عبد الله المُزَنيّ، عن أنس بن مالك قال: جاءت امرأةٌ إلى عائشة تسألُ ومعها صبيَّانِ، فأعطتها ثلاثَ تَمَرات، فأعطَتْ كلَّ صبي تمرةً، وأمسكَتْ لنفسِها تمرةً، فأكل الصبيَّانِ التمرتينِ، فعَمَدَتْ إلى التمرة فشقَّتها نِصفَينِ، فأعطَتْ كلَّ صبيٍّ لها نصفَ تمرة، فجاء النبيُّ ﷺ فَأَخبَرَتْه، فقال:"وما يُعجِبُكِ منها، لقد رَحِمَها الله برحمتِها صَبِيَّيْها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7349 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کچھ مانگنے آئی اور اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے تین کھجوریں عطا کیں، اس عورت نے دونوں بچوں کو ایک ایک کھجور دے دی اور ایک کھجور اپنے (کھانے کے) لیے رکھ لی۔ ان دونوں بچوں نے اپنی کھجوریں کھا لیں، پھر اس عورت نے اپنی کھجور پکڑی اور اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور اپنے دونوں بچوں کو آدھی آدھی کھجور دے دی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس کی اس بات پر کیا تعجب ہے؟ یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس کے اپنے بچوں پر رحم کرنے کی وجہ سے اس پر رحم فرمایا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7536]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد، أبو الحسن محمد بن علي بن بكر: هو محمد بن الحسن بن علي بن بكر، وقد تكلمنا عليه عند الرواية السالفة برقم (3503)» [ترقيم الرساله 7536] [ترقيم الشركة 7445] [ترقيم العلميه 7349]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں