سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب فِيمَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ
باب: رمضان میں جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2388
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَذْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُمَا قَالَتَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصْبِحُ جُنُبًا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ الْأَذْرَمِيُّ فِي حَدِيثِهِ: فِي رَمَضَانَ مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَمَا أَقَلَّ مَنْ يَقُولُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ يَعْنِي يُصْبِحُ جُنُبًا فِي رَمَضَانَ، وَإِنَّمَا الْحَدِيثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصْبِحُ جُنُبًا وَهُوَ صَائِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں صبح کرتے۔ عبداللہ اذرمی کی روایت میں ہے: ایسا رمضان میں احتلام سے نہیں بلکہ جماع سے ہوتا تھا، پھر آپ روزہ سے رہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کتنی کم تر ہے اس شخص کی بات جو یہ یعنی «يصبح جنبا في رمضان» کہتا ہے، حدیث تو (جو کہ بہت سے طرق سے مروی ہے) یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہو کر صبح کرتے تھے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2388]
امہات المؤمنین سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو جنبی ہو کر اٹھتے“، عبداللہ اذرمی نے اپنی روایت میں کہا کہ ”رمضان میں، جماع کی بنا پر نہ کہ احتلام سے اور پھر روزہ رکھ لیتے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ «يُصْبِحُ جُنُبًا فِي رَمَضَانَ» کا لفظ بہت کم راوی ذکر کرتے ہیں۔ (صحیح) حدیث کے لفظ یہ ہیں: «أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا وَهُوَ صَائِمٌ» ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں صبح کرتے اور آپ روزہ رکھے ہوئے ہوتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 22(1925)، صحیح مسلم/الصیام 13 (1109)، سنن الترمذی/الصوم 63 (779)، سنن ابن ماجہ/الصیام 27(1703)، (تحفة الأشراف: 17696، 18228، 18190، 18192)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام 4(10)، مسند احمد (1/211، 6/34، 36، 38، 203، 213، 216، 229، 266، 278، 289، 290، 308)، سنن الدارمی/الصوم 22 (1766) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس میں لفظ رمضان کا ذکر نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1109)
وللحديث لون آخر عند البخاري (1925، 1926)
وللحديث لون آخر عند البخاري (1925، 1926)
حدیث نمبر: 2389
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ يَعْنِي الْقَعْنَبِيَّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ،عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الْبَابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَنَا" أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَأَغْتَسِلُ وَأَصُومُ". فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا، قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّبِعُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میں جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنا چاہتا ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں پھر غسل کرتا ہوں اور روزہ رکھ لیتا ہوں“، اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! آپ تو ہماری طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر رکھے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ میں تم میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، اور مجھے کیا کرنا ہے اس بات کو بھی تم سے زیادہ جانتا ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2389]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر کھڑے تھے، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں بحالت جنابت صبح کرتا ہوں اور روزہ بھی رکھنا چاہتا ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی (بعض اوقات) صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھتا ہوں اور روزے کا ارادہ ہوتا ہے تو غسل کر لیتا ہوں اور روزہ رکھتا ہوں۔“ وہ آدمی کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! آپ تو ہماری مانند نہیں ہیں، اللہ عزوجل نے آپ کی اگلی پچھلی تمام تقصیرات معاف فرمائی ہوئی ہیں۔“ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو گئے اور فرمایا: ”قسم اللہ کی! میں یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور اتباع کے لائق اعمال سے بہت زیادہ آگاہ ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصیام 13 (1110)، (تحفة الأشراف: 17810)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام 4 (9)، مسند احمد (6/67، 156، 245) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح مسلم (1110)