🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. باب كَفَّارَةِ مَنْ أَتَى أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ
باب: رمضان میں بیوی سے جماع کے کفارہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2390
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ مُسَدَّدٌ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ. فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ:" وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ. قَالَ: فَهَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ قَالَ: لَا. قَالَ: اجْلِسْ. فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ: تَصَدَّقْ بِهِ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ ثَنَايَاهُ، قَالَ: فَأَطْعِمْهُ إِيَّاهُمْ"، وقَالَ مُسَدَّدٌ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: أَنْيَابُهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ایک گردن آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، فرمایا: دو مہینے مسلسل روزے رکھنے کی طاقت ہے؟ کہا: نہیں، فرمایا: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟، کہا: نہیں، فرمایا: بیٹھو، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: انہیں صدقہ کر دو، کہنے لگا: اللہ کے رسول! مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھرانہ ہے ہی نہیں، اس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے اور فرمایا: اچھا تو انہیں ہی کھلا دو۔ مسدد کی روایت میں ایک دوسری جگہ «ثناياه» کی جگہ «أنيابه» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2390]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: میں تو مارا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ہوا؟ اس نے کہا: میں رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستر ہو بیٹھا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ ایک گردن آزاد کر سکے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو ہمت رکھتا ہے کہ دو ماہ متواتر روزے رکھے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے طاقت ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا، اس میں کھجوریں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ان کو صدقہ کر دو۔ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مدینے کی دونوں پتھریلی زمینوں کے مابین ہم سے زیادہ اور کوئی فقیر نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کے اگلے دانت دکھائی دینے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھر والوں ہی کو کھلا دو۔ مسدد نے اپنی روایت میں کہا کہ آپ کے نوکیلے دانت نظر آنے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 30 (1936)، الہبة 20 (2600)، النفقات 13 (5368)، الأدب 67 (6087)، 95 (6164)، کفارات الأیمان 2 (6709)، 3 (6710)، 4 (6711)، صحیح مسلم/الصیام 14 (1111)، سنن الترمذی/الصوم 28 (724)، سنن ابن ماجہ/الصیام 14 (1671)، (تحفة الأشراف: 12275)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام 9(28)، مسند احمد (2/208، 241، 273، 281، 516)، سنن الدارمی/الصوم 19 (1757) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6711) صحيح مسلم (1111)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2391
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ، زَادَ الزُّهْرِيُّ: وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا رُخْصَةً لَهُ خَاصَّةً، فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا فَعَلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ لَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنَ التَّكْفِيرِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، والْأَوْزَاعِيُّ، وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ، عَلَى مَعْنَى ابْنِ عُيَيْنَةَ، زَادَ فِيهِ الأَوْزَاعِيُّ: وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ.
اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں زہری نے یہ الفاظ زائد کہے کہ یہ (کھجوریں اپنے اہل و عیال کو ہی کھلا دینے کا حکم) اسی شخص کے ساتھ خاص تھا اگر اب کوئی اس گناہ کا ارتکاب کرے تو اسے کفارہ ادا کئے بغیر چارہ نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد، اوزاعی، منصور بن معتمر اور عراک بن مالک نے ابن عیینہ کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے اور اوزاعی نے اس میں «واستغفر الله» اور اللہ سے بخشش طلب کر کا اضافہ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2391]
امام زہری رحمہ اللہ نے یہ حدیث اسی مذکورہ معنی میں بیان کی اور مزید کہا کہ یہ اسی آدمی کے لیے رخصت تھی، آج اگر کوئی یہ کام کر بیٹھے تو کفارے سے چارہ نہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس روایت کو لیث بن سعد، اوزاعی، منصور بن معتمر اور عراک بن مالک نے سفیان بن عیینہ کی مانند بیان کیا۔ اوزاعی رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا: اور اللہ سے استغفار بھی کر۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2391]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12275) (صحیح)» ‏‏‏‏ (لیکن زہری کے بات خلاف اصل ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6710) صحيح مسلم (1111)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2392
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ،فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا. قَالَ: لَا أَجِدُ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْلِسْ. فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ: خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَحَدٌ أَحْوَجُ مِنِّي. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، وَقَالَ لَهُ: كُلْهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَلَى لَفْظِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ، وَقَالَ فِيهِ: أَوْ تُعْتِقَ رَقَبَةً، أَوْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ، أَوْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام آزاد کرنے، یا دو مہینے کا مسلسل روزے رکھنے، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم فرمایا، وہ شخص کہنے لگا کہ میں تو (ان میں سے) کچھ نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: بیٹھ جاؤ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلا آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے لو اور صدقہ کر دو، وہ کہنے لگا: اللہ کے رسول! مجھ سے زیادہ ضرورت مند تو کوئی ہے ہی نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت نظر آنے لگے اور اس سے فرمایا: تم ہی اسے کھا جاؤ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے زہری سے مالک کی روایت کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے روزہ توڑ دیا، اس میں ہے «أو تعتق رقبة أو تصوم شهرين أو تطعم ستين مسكينا» ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2392]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ایک گردن آزاد کرے یا دو ماہ متواتر روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس نے کہا: میں (کسی کی بھی) طاقت نہیں رکھتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا، اس میں کھجوریں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لے جاؤ اور صدقہ کرو۔ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے بڑھ کر اور کوئی محتاج نہیں ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کے نوکیلے دانت نظر آنے لگے اور اس سے فرمایا: جاؤ کھا لو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن جریج نے زہری سے بالفاظِ امام مالک روایت کیا اور کہا کہ ایک آدمی نے روزہ توڑ لیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: یا تو ایک گردن آزاد کرو یا دو ماہ روزے رکھو یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2390)، (تحفة الأشراف: 12275) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی غائب کے بجائے حاضر کے صیغے کے ساتھ اور بغیر «متتابعين» کے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1111)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2393
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ: فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ قَدْرُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، وَقَالَ فِيهِ: كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُ بَيْتِكَ وَصُمْ يَوْمًا وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اس نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا، آگے اوپر والی حدیث کا ذکر ہے اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑا تھیلا آیا جس میں پندرہ صاع کے بقدر کھجوریں تھیں، اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تم اور تمہارے گھر والے کھاؤ، اور ایک دن کا روزہ رکھ لو، اور اللہ سے بخشش طلب کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2393]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا جس نے رمضان کے دن میں روزہ توڑ لیا تھا، اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا، اس میں کھجور تھی تقریباً پندرہ صاع۔ اس روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو اور تیرے گھر والے یہ کھا لیں اور تو ایک دن کا روزہ رکھ اور اللہ سے استغفار کر۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2393]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم:(2390)، (تحفة الأشراف: 15304) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن شھاب الزھري مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 89

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2394
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ. حدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ. حدَّثَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ. حدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْتَرَقْتُ. فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُهُ. قَالَ:" أَصَبْتُ أَهْلِي. قَالَ: تَصَدَّقْ. قَالَ: وَاللَّهِ مَا لِي شَيْءٌ وَلَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ. قَالَ: اجْلِسْ. فَجَلَسَ، فَبَيْنَمَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا؟ فَقَامَ الرَّجُلُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَصَدَّقْ بِهَذَا. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعَلَى غَيْرِنَا؟ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَجِيَاعٌ مَا لَنَا شَيْءٌ. قَالَ: كُلُوهُ".
عباد بن عبداللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص رمضان میں مسجد کے اندر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں تو بھسم ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کر دو، وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، اور نہ میرے اندر استطاعت ہے، فرمایا: بیٹھ جاؤ، وہ بیٹھ گیا، اتنے میں ایک شخص غلے سے لدا ہوا گدھا ہانک کر لایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی بھسم ہونے والا کہاں ہے؟ وہ شخص کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے صدقہ کر دو، بولا: اللہ کے رسول! کیا اپنے علاوہ کسی اور پر صدقہ کروں؟ اللہ کی قسم! ہم بھوکے ہیں، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں، فرمایا: اسے تم ہی کھا لو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2394]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رمضان میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو جل گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا ہوا؟ اس نے کہا: میں نے اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو۔ کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرے پاس کوئی چیز نہیں اور نہ میری یہ ہمت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ گیا۔ وہ اسی حالت میں تھا کہ ایک آدمی اپنا گدھا چلاتے ہوئے آیا، اس پر طعام تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہاں ہے وہ جو ابھی کہہ رہا تھا میں جل گیا؟ وہ کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ صدقہ کر دو۔ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! کیا (اپنے علاوہ) دوسروں پر؟ قسم اللہ کی! ہم بھوکے ہیں، ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جاؤ) کھا لو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2394]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 29 (1935)، صحیح مسلم/الصیام 14 (1112)، (تحفة الأشراف: 16176)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الصوم (3110)، مسند احمد (6/140، 276)، سنن الدارمی/الصوم 19(1759) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1112)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ عِشْرُونَ صَاعًا.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی قصہ مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا تھیلا لایا گیا جس میں بیس صاع کھجوریں تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2395]
عباد بن عبداللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس قصے میں بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا، اس میں بیس صاع (کھجور) تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16176) (منكر)» ‏‏‏‏ (مقدار کی بات منکر ہے جو مؤلف کے سوا کسی کے یہاں نہیں ہے) نوٹ: سند ایک ہے، لیکن اگلی حدیث کے حکم میں اختلاف ہے
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں